Thursday, 5 February 2026

کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

 کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے

ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے

یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے

کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر

کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے

کہاں سے لائیے معصومیت فرشتوں سی

گناہ فطرت آدم ہے کیا کیا جائے

اسیر خواب دکھایا گیا تھا جنت کا

گلی گلی میں جہنم ہے کیا کیا جائے


اسیر جبلپوری

No comments:

Post a Comment