کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے
بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے
ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے
یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے
کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر
کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے
کہاں سے لائیے معصومیت فرشتوں سی
گناہ فطرت آدم ہے کیا کیا جائے
اسیر خواب دکھایا گیا تھا جنت کا
گلی گلی میں جہنم ہے کیا کیا جائے
اسیر جبلپوری
No comments:
Post a Comment