Showing posts with label شرر فتحپوری. Show all posts
Showing posts with label شرر فتحپوری. Show all posts

Sunday, 25 December 2022

الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے

 الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے 

حرفِ نوا کو پیکر معنی میں ڈھال دے

دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا 

جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے

سرمستیوں کی موج میں لہرا کے جھوم جا 

اٹھ اور ایک جام فضا میں اچھال دے

Sunday, 18 December 2022

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو

ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو 

کتنے بکھراؤ ہیں اندر دیکھو 

آئینہ دیکھ کے جینے والو 

دور حاضر کے بھی تیور دیکھو 

بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن 

خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو 

Tuesday, 13 December 2022

اپنے پس منظر میں منظر بولتے

 اپنے پس منظر میں منظر بولتے

چیختے دیوار و در گھر بولتے

کچھ تو کھلتا ماجرائے قتل و خوں

چڑھ کے اوجِ دار پہ سر بولتے

مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر

بولنے والے تو کھل کر بولتے

Saturday, 10 December 2022

اپنی روداد کہوں یا غم دنیا لکھوں

 اپنی روداد کہوں یا غمِ دنیا لکھوں 

کون سی بات کہوں کون سا قصہ لکھوں

باب تحریر میں ہے لوح و قلم پر تعزیر 

برگِ سادہ ہی پہ اب حرفِ تمنا لکھوں

شام تو شام تھی اب صبح کا منظر دیکھو 

کس کی میں ہجو کہوں کس کا قصیدہ لکھوں

Friday, 9 December 2022

تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا

 تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا 

بستۂ وہم و گماں بھاگتا خوابوں میں رہا

دل کی آوارہ مزاجی کا گِلہ کیا کیجے 

خانہ برباد رہا، خانہ خرابوں میں رہا

ایک وہ حرف جنوں نقش گر لوح و قلم 

ایک وہ باب خرد بند کتابوں میں رہا

Thursday, 7 July 2022

ہونے کو آستان حرم بھی قریب تھا

ہونے کو آستانِ حرم بھی قریب تھا

ہم دار تک گئے یہ ہمارا نصیب تھا

میرے ہی حُسنِ شوق نے رُسوا کیا مجھے

میرا جنونِ عشق ہی میرا رقیب تھا

اب تک ہے جان و دل پہ مصیبت بنی ہوئی

وہ حادثۂ زیست بھی کتنا عجیب تھا