الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے
حرفِ نوا کو پیکر معنی میں ڈھال دے
دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا
جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے
سرمستیوں کی موج میں لہرا کے جھوم جا
اٹھ اور ایک جام فضا میں اچھال دے
الفاظ کے بدن کو لباس خیال دے
حرفِ نوا کو پیکر معنی میں ڈھال دے
دشواریٔ حیات کو دشوار تر بنا
جس کا جواب بن نہ پڑے وہ سوال دے
سرمستیوں کی موج میں لہرا کے جھوم جا
اٹھ اور ایک جام فضا میں اچھال دے
ڈوبتے دل کا یہ منظر دیکھو
کتنے بکھراؤ ہیں اندر دیکھو
آئینہ دیکھ کے جینے والو
دور حاضر کے بھی تیور دیکھو
بجھ گئی ماتھے کی ایک ایک شکن
خالی ہاتھوں کا مقدر دیکھو
اپنے پس منظر میں منظر بولتے
چیختے دیوار و در گھر بولتے
کچھ تو کھلتا ماجرائے قتل و خوں
چڑھ کے اوجِ دار پہ سر بولتے
مصلحت تھی کوئی وہ چپ تھے اگر
بولنے والے تو کھل کر بولتے
اپنی روداد کہوں یا غمِ دنیا لکھوں
کون سی بات کہوں کون سا قصہ لکھوں
باب تحریر میں ہے لوح و قلم پر تعزیر
برگِ سادہ ہی پہ اب حرفِ تمنا لکھوں
شام تو شام تھی اب صبح کا منظر دیکھو
کس کی میں ہجو کہوں کس کا قصیدہ لکھوں
تشنہ لب کوئی جو سرگشتہ سرابوں میں رہا
بستۂ وہم و گماں بھاگتا خوابوں میں رہا
دل کی آوارہ مزاجی کا گِلہ کیا کیجے
خانہ برباد رہا، خانہ خرابوں میں رہا
ایک وہ حرف جنوں نقش گر لوح و قلم
ایک وہ باب خرد بند کتابوں میں رہا
ہونے کو آستانِ حرم بھی قریب تھا
ہم دار تک گئے یہ ہمارا نصیب تھا
میرے ہی حُسنِ شوق نے رُسوا کیا مجھے
میرا جنونِ عشق ہی میرا رقیب تھا
اب تک ہے جان و دل پہ مصیبت بنی ہوئی
وہ حادثۂ زیست بھی کتنا عجیب تھا