Showing posts with label بہزاد فاطمی. Show all posts
Showing posts with label بہزاد فاطمی. Show all posts

Friday, 26 June 2026

وجہ شہرت تری آشفتہ سری میری ہے

 وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے

شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے

چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے

حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے

ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن

بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے

Sunday, 3 May 2026

دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

 دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے

جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست

آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے

آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن

ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے

Saturday, 2 May 2026

کمتر نہیں مقام مرا آفتاب سے

 کم تر نہیں مقام مِرا آفتاب سے

"آتی ہے یہ صدا لحدِ بُو ترابؑ سے"

ہر گھونٹ میں ہو جلوۂ ساقی کا جبکہ عکس

توبہ کریں گے رِند نہ ایسی شراب سے

وہ ظرفِ زُہد کیا ہوا نازاں تھے جس پہ آپ

پوچھے کوئی یہ زاہدِ عزت مآب سے

Saturday, 12 December 2020

یہ بیداد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا

یہ بے داد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا 

بھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گا

بچا لینا تو ممکن ہے بھنور سے اپنی کشتی کو 

جو پوشیدہ ہو ساحل میں وہ طوفاں کون دیکھے گا

سر محفل تو پروانوں کو جلتا سب نے دیکھا ہے 

تِرا سوز دروں اے شمع گریاں کون دیکھے گا