وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے
شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے
چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے
حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے
ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن
بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے
وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے
شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے
چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے
حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے
ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن
بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے
دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے
آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے
جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست
آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے
آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن
ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے
کم تر نہیں مقام مِرا آفتاب سے
"آتی ہے یہ صدا لحدِ بُو ترابؑ سے"
ہر گھونٹ میں ہو جلوۂ ساقی کا جبکہ عکس
توبہ کریں گے رِند نہ ایسی شراب سے
وہ ظرفِ زُہد کیا ہوا نازاں تھے جس پہ آپ
پوچھے کوئی یہ زاہدِ عزت مآب سے
یہ بے داد بہار فتنہ ساماں کون دیکھے گا
بھری برسات میں جلتا گلستاں کون دیکھے گا
بچا لینا تو ممکن ہے بھنور سے اپنی کشتی کو
جو پوشیدہ ہو ساحل میں وہ طوفاں کون دیکھے گا
سر محفل تو پروانوں کو جلتا سب نے دیکھا ہے
تِرا سوز دروں اے شمع گریاں کون دیکھے گا