Showing posts with label ماہم ارشد. Show all posts
Showing posts with label ماہم ارشد. Show all posts

Wednesday, 4 May 2022

خاموش ہوں کسی شیلف پہ دھری کتاب کی طرح

 خاموش ہوں


کسی شیلف پہ دھری

بے نام لکھاری کی کتاب کی طرح

خزاں کی رُت میں کسی بوڑھے بے ثمر پیڑ کی طرح

بے سُود ہوں

کسی آرٹ گیلری کے اک کونے میں پڑی

Monday, 18 October 2021

وہ شعلہ ہے اور میں موم ہوں

 کشش


وہ شعلہ ہے

اور میں موم ہوں

اس کی آنچ پگھلا کر 

مجھے اس قدر نرم کر دیتی ہے کہ

وہ جدھر چاہے مجھے موڑ لے

Monday, 4 January 2021

اللہ سائیاں دکھ کی بھٹی میں جلتے دل کو

 اللہ سائیاں

دُکھ کی بھٹی میں جلتے دل کو

اور روح کو نچوڑتی وحشت کو مری نیلگوں رگوں سے نکال پھینک

اللہ سائیاں

مِری متروک زمیں پر 

رحم کی پھوار برسا

Thursday, 26 November 2020

مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے

مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے


 تمہارے ہنسنے سے

خوشوں سے لٹکی بے موسمی کلیاں

مدھم سرگوشیاں کرنے لگیں

تمہارے لجانے سے

ہواؤں کے رتھ پہ سوار پریاں 

Wednesday, 25 November 2020

اب کی بار جو مجھ سے ملنے آؤ

 روپ سروپ


اب کی بار جو مجھ سے ملنے آؤ

تو مِرے واسطے

ابریشم کی اک احمری ساڑھی

موتیے سے گتھی پھول مالا اور

چاند جھروکوں سے چند گہنے لانا

Tuesday, 24 November 2020

حسین چندر مکھی

صورتِ دلبراں


موہن کہتا ہے

بالکونی میں بال بکھرائے مت ہنسا کرو

تمہاری ہنسی کی کھنک کے باعث

زمین کی گردش رُک جاتی ہے

مجسمہ سازوں کی آنکھیں 

زمینی جہنم

 زمینی جہنم


بلوط کے درخت کے سائے تلے بیٹھے 

چند بچوں کی معصوم خواہشیں سنیں میں نے 

ان میں سے ایک کہہ رہا تھا

مرا دل چاہتا ہے

کسی دوسرے سیارے پہ جا کر 

Monday, 23 November 2020

خاموش ہوں کسی شیلف پہ دھری

 خاموش ہوں

کسی شیلف پہ دھری

بے نام لکھاری کی کتاب کی طرح

خزاں کی رُت میں کسی بوڑھے بے ثمر پیڑ کی طرح


بے سود ہوں

کسی آرٹ گیلری کے اک کونے میں پڑی

Saturday, 21 November 2020

اماں میرا بیاہ نہ کرنا کبھی

ایک طمانچہ روایات کی دھول سے اٹے چہروں پہ


میں انہماک سے پوچھتی ہوں

اماں! تُو دن بھر چولہا چوکھٹ کرتی ہے

شام کو پھر ابا کی دھتکار بھی سہتی ہے

چپ کے آنگن میں گنگ نیر بہاتی ہے

اپنے حق میں کیوں لب نہیں کھولتی ہے؟