خاموش ہوں
کسی شیلف پہ دھری
بے نام لکھاری کی کتاب کی طرح
خزاں کی رُت میں کسی بوڑھے بے ثمر پیڑ کی طرح
بے سُود ہوں
کسی آرٹ گیلری کے اک کونے میں پڑی
خاموش ہوں
کسی شیلف پہ دھری
بے نام لکھاری کی کتاب کی طرح
خزاں کی رُت میں کسی بوڑھے بے ثمر پیڑ کی طرح
بے سُود ہوں
کسی آرٹ گیلری کے اک کونے میں پڑی
کشش
وہ شعلہ ہے
اور میں موم ہوں
اس کی آنچ پگھلا کر
مجھے اس قدر نرم کر دیتی ہے کہ
وہ جدھر چاہے مجھے موڑ لے
اللہ سائیاں
دُکھ کی بھٹی میں جلتے دل کو
اور روح کو نچوڑتی وحشت کو مری نیلگوں رگوں سے نکال پھینک
اللہ سائیاں
مِری متروک زمیں پر
رحم کی پھوار برسا
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے
تمہارے ہنسنے سے
خوشوں سے لٹکی بے موسمی کلیاں
مدھم سرگوشیاں کرنے لگیں
تمہارے لجانے سے
ہواؤں کے رتھ پہ سوار پریاں
روپ سروپ
اب کی بار جو مجھ سے ملنے آؤ
تو مِرے واسطے
ابریشم کی اک احمری ساڑھی
موتیے سے گتھی پھول مالا اور
چاند جھروکوں سے چند گہنے لانا
صورتِ دلبراں
موہن کہتا ہے
بالکونی میں بال بکھرائے مت ہنسا کرو
تمہاری ہنسی کی کھنک کے باعث
زمین کی گردش رُک جاتی ہے
مجسمہ سازوں کی آنکھیں
زمینی جہنم
بلوط کے درخت کے سائے تلے بیٹھے
چند بچوں کی معصوم خواہشیں سنیں میں نے
ان میں سے ایک کہہ رہا تھا
مرا دل چاہتا ہے
کسی دوسرے سیارے پہ جا کر
خاموش ہوں
کسی شیلف پہ دھری
بے نام لکھاری کی کتاب کی طرح
خزاں کی رُت میں کسی بوڑھے بے ثمر پیڑ کی طرح
بے سود ہوں
کسی آرٹ گیلری کے اک کونے میں پڑی
ایک طمانچہ روایات کی دھول سے اٹے چہروں پہ
میں انہماک سے پوچھتی ہوں
اماں! تُو دن بھر چولہا چوکھٹ کرتی ہے
شام کو پھر ابا کی دھتکار بھی سہتی ہے
چپ کے آنگن میں گنگ نیر بہاتی ہے
اپنے حق میں کیوں لب نہیں کھولتی ہے؟