Showing posts with label محمد کامران. Show all posts
Showing posts with label محمد کامران. Show all posts

Thursday, 28 March 2024

محبت جن سے کرتے ہیں

 محبت جن سے کرتے ہیں


محبت جن سے کرتے ہیں

محبت جو بھی کرتے ہیں

سبھی انسان ہوتے ہیں

اگر انسان سے کوئی خطا ہو جائے تو اس کو

کٹہرے میں کھڑا کرتے نہیں ہیں

اس کی آنکھیں چوم کر تنبیہ کرتے ہیں

Thursday, 14 December 2023

نقش بر آب اب کسے بھیجوں

 ٹپہ/ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے


آج بارش ہوئی تو ہر اخبار

نقش بر آب ہو گیا پھر سے

نقش بر آب اب کسے بھیجوں؟


محمد کامران

Wednesday, 13 December 2023

آدم کو آدمیت کا ساز بیچتا ہوں

 آدم کو آدمیّت کا ساز بیچتا ہوں 

گر سُن سکو تو میں بھی آواز بیچتا ہوں

میں صوفی و مُلّا، نہ کوئی عالِم و عامِل

کافِر ہوں، کُفرِ عشق کے انداز بیچتا ہوں

وہ جوہرِ کامِل پوشیدہ ہے تجھی میں

سمجھو اگر تو میں خودی کا راز بیچتا ہوں

Wednesday, 25 August 2021

ہم پارہ صفت لوگ ہیں پانی کی طرح ہیں

 ہم پارہ صفت لوگ ہیں پانی کی طرح ہیں

ڈھلتی ہوئی عمروں میں جوانی کی طرح ہیں

ہم فردا و اِمروز سے آگے کے مسافر

ٹھہرے ہوئے لگتے ہیں روانی کی طرح ہیں

بالوں میں اُترتے ہوئے چاندی کے اُجالے

گردِ مہ و انجم کی نشانی کی طرح ہیں