Showing posts with label کاشف اورا. Show all posts
Showing posts with label کاشف اورا. Show all posts

Wednesday, 31 December 2025

جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے

 جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے

چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے

تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا

الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے

ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے

یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے

Friday, 18 July 2025

لفظوں کے ہیر پھیر کی ناؤ میں آ گیا

 لفظوں کے ہیر پھیر کی ناؤ میں آ گیا

میں جل پری کے جال کے داؤ میں آ گیا

تجھ سے نظر ہٹانے کو کیا کیا نہیں کیا

پھر بھی چراغ تل کے الاؤ میں آ گیا

یہ گاؤں کی زندگی کی حسیں تر نظیر تھا

بس پھر بنانے والے کے بھاؤ میں آ گیا

Thursday, 17 July 2025

نعت چلتا رہتا ہوں تخیل میں مدینے کی طرف

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شعر زینہ ہیں مرا عرش کے سینے کی طرف

چلتا رہتا ہوں تخیل میں مدینےﷺ کی طرف

نعت کے پردے میں ہم شہرِ نبیﷺ گھومتے ہیں

کبھی آنگن کی طرف، اور کبھی زینے کی طرف

پہلے پہلے اسے مرنا بھی نہیں آتا تھا

آپﷺ انسان کو لے آئے ہیں جینے کی طرف

Thursday, 19 June 2025

اندر سے کھا رہی ہے جدائی حضور کی

اندر سے کھا رہی ہے جدائی حضور کی

باہر سے بند ہو گئی کھڑکی شعور کی

اک گلبدن کو پیار سکھانے میں کٹ گئی

پوچھو نہ ہم نے زندگی کیسے عبور کی

کھلنے لگے ہیں گیسو مِری خوش خصال کے

مٹنے کو ملگجی ہے سو حور و قصور کی