جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے
چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے
تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا
الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے
ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے
یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے
جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے
چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے
تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا
الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے
ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے
یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے
لفظوں کے ہیر پھیر کی ناؤ میں آ گیا
میں جل پری کے جال کے داؤ میں آ گیا
تجھ سے نظر ہٹانے کو کیا کیا نہیں کیا
پھر بھی چراغ تل کے الاؤ میں آ گیا
یہ گاؤں کی زندگی کی حسیں تر نظیر تھا
بس پھر بنانے والے کے بھاؤ میں آ گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شعر زینہ ہیں مرا عرش کے سینے کی طرف
چلتا رہتا ہوں تخیل میں مدینےﷺ کی طرف
نعت کے پردے میں ہم شہرِ نبیﷺ گھومتے ہیں
کبھی آنگن کی طرف، اور کبھی زینے کی طرف
پہلے پہلے اسے مرنا بھی نہیں آتا تھا
آپﷺ انسان کو لے آئے ہیں جینے کی طرف
اندر سے کھا رہی ہے جدائی حضور کی
باہر سے بند ہو گئی کھڑکی شعور کی
اک گلبدن کو پیار سکھانے میں کٹ گئی
پوچھو نہ ہم نے زندگی کیسے عبور کی
کھلنے لگے ہیں گیسو مِری خوش خصال کے
مٹنے کو ملگجی ہے سو حور و قصور کی