عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے میرے لیے وجہِ سُکوں نام محمدﷺ
پھر کیسے فراموش کروں نام محمدﷺ
اس نام سے یہ ارض و سماوات ہیں قائم
کاشانۂ امکاں کا سُتوں نام محمدﷺ
سُرمہ کی طرح دِیدۂ گریاں میں لگاؤں
غازہ کی طرح رُخ پہ ملوں نام محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے میرے لیے وجہِ سُکوں نام محمدﷺ
پھر کیسے فراموش کروں نام محمدﷺ
اس نام سے یہ ارض و سماوات ہیں قائم
کاشانۂ امکاں کا سُتوں نام محمدﷺ
سُرمہ کی طرح دِیدۂ گریاں میں لگاؤں
غازہ کی طرح رُخ پہ ملوں نام محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیا غم اگر غموں کی ہے کثرت درودﷺ پڑھ
پائے گا دل سکوں کی لذت درودﷺ پڑھ
تڑپائے جب بھی کوئی مصیبت درود پڑھ
پہنچے گی دستِ غیب سے نصرت درود پڑھ
پڑھ، ہاں بصد خلوص و عقیدت درود پڑھ
فرمائیں گے حضورﷺ سماعت درود پڑھ
اپنے من پر حاوی ہو جا
اندر سے بھی صوفی ہو جا
جو رب سے باغی کرتی ہے
اس دنیا سے باغی ہو جا
جوش پہ ہے فتنوں کا طوفاں
حضرتِ نوح کی کشتی ہو جا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
رقص طاؤس، نہ آواز کے جادو میں ملی
دل کو تسکین فقط نغمۂ حق ہُو میں ملی
رنگ والشمس کا رُخسار نبیﷺ میں دیکھا
شان واللیل کی سرکارؐ کے گیسُو میں ملی
عشق نے ڈھونڈا تو آقاؐ کے پسینے کی مہک
کیسۂ گُل میں ملی،۔ نافۂ آہُو میں ملی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
شب برأت
لطف و کرم و عطا کی ساعت آئی
بخشش کا پیام لے کے رحمت آئی
جو مانگو گے آج دل سے مل جائے گا
مانگو، مانگو، شبِ برأت آئی
پروانۂ مغفرت کی ساعت آئی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
زمزم عشق سے دھو دھوکے نکھارے الفاظ
میں نے تب نعتﷺ کی تختی پہ اتارے الفاظ
جن کی جنبش سے بنے نور کے دھارے الفاظ
ان لبوں سے ہیں معنون مِرے سارے الفاظ
ڈال دوں گا سر میزان یہ نعتوں کی بیاض
پورا کر دیں گے مِرے سارے خسارے الفاظ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام؛ بیان بر سراپائے پاکﷺ
چشمِ عالم نے حسیں کوئی نہ دیکھا ایسا
رب نے پیدا کیا حضرتؐ کا سراپا ایسا
پست آتے ہیں نظر سَرو قدانِ عالم
معتدل طول میں بھی ہے قدِ بالا ایسا
مظہرِ جلوۂ اللہ جمیل کہیے
میرے سرکارؐ کا ہے حسن دلآرا ایسا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہاں محمدﷺ وہاں محمدﷺ، اِدھر محمدﷺ اُدھر محمدﷺ
جہاں بھی دیکھا نگاہِ دل نے، وہیں پہ آئے نظر محمدﷺ
اگر محبت سے کر دیں اپنی نگاہِ معجز اثر محمدﷺ
خزاں کو رنگِ بہار دے دیں خذف کو کر دیں گُہر محمدﷺ
بشر یقیناً ہیں لیکن ایسے ہیں عالی منصب بشر محمدﷺ
زمین پر ہیں اور آسماں کی سنا رہے ہیں خبر محمدﷺ
حدیثِ پاک کے تناظر میں کہا گیا ایک کلام
پھر ایک بھوکا شخص جاں بلب ہوا، غضب ہوا
کہ شہر پر نزولِ قہر رب ہوا، غضب ہوا
تمام ہوشمند ہونٹ سی کے جاں بچا گئے
دِوانہ لب ہلا کے بے ادب ہوا، غضب ہوا
سبب تھا جو عروج کا اسی سے ربط ختم ہوا
تِرے زوال کا یہی سبب ہوا، غضب ہوا