Showing posts with label طاہرہ مسعود. Show all posts
Showing posts with label طاہرہ مسعود. Show all posts

Tuesday, 20 September 2022

یہ کیا ہوا ہے کہ ملتا نہیں قرار ہمیں

 یہ کیا ہوا ہے؟ کہ ملتا نہیں قرار ہمیں

سکون دیتی نہیں اب کے کیوں بہار ہمیں

نہیں ہے بھاتا منظر کوئی نگاہوں کو

نہ گُل نہ غُنچہ نہ پنچھی نہیں چنار ہمیں

یہ کیسا اترا ہے موسم بھی دل کے آنگن میں

جو سانس آتی ہے کرتی ہے بے قرار ہمیں

Tuesday, 13 September 2022

طرز میں اجتناب سا کچھ ہے

 طرز میں اجتناب سا کچھ ہے

رُخ پہ بھی اضطراب سا کچھ ہے

مہر سا ماہتاب سا کچھ ہے

اس کا پرتُو جناب سا کچھ ہے

اس پہ تکیہ کریں تو کیسے کریں

زندگانی حباب سا کچھ ہے

Monday, 29 August 2022

ٹھنڈی سوندھی ہواؤں جیسا ہے

 ٹھنڈی سوندھی ہواؤں جیسا ہے 

دھوپ میں مجھ کو چھاؤں جیسا ہے

اتر آتی ہے روح تک تاثیر

لہجہ اس کا شفاؤں جیسا ہے

مجھ کو ساحل کی فکر کیونکر ہو 

ساتھ وہ نا خداؤں جیسا ہے

Wednesday, 10 August 2022

حالت اضطرار ہے کیسی

 حالتِ اضطرار ہے کیسی

روح یہ بے قرار ہے کیسی

سانس گھٹنے لگی ہے سینے میں

آنکھ اختر شمار ہے کیسی

ہیں چمن میں اداس گُل بوٹے

اب کے آئی بہار ہے کیسی

Friday, 9 April 2021

میرا سکون میرا اعتبار واپس کر

 میرا سکون میرا اعتبار واپس کر

مجھے تُو میرا وہ کھویا قرار واپس کر

تِرے سلوک نے دل کر دیا سپردِ خزاں

نہ چھین مجھ سے تُو میری بہار واپس کر

ملے گا کیا تجھے لے کر میرے شفق رخسار

اے عمرِ رفتہ! تُو میرا نکھار واپس کر