یہ کیا ہوا ہے؟ کہ ملتا نہیں قرار ہمیں
سکون دیتی نہیں اب کے کیوں بہار ہمیں
نہیں ہے بھاتا منظر کوئی نگاہوں کو
نہ گُل نہ غُنچہ نہ پنچھی نہیں چنار ہمیں
یہ کیسا اترا ہے موسم بھی دل کے آنگن میں
جو سانس آتی ہے کرتی ہے بے قرار ہمیں
یہ کیا ہوا ہے؟ کہ ملتا نہیں قرار ہمیں
سکون دیتی نہیں اب کے کیوں بہار ہمیں
نہیں ہے بھاتا منظر کوئی نگاہوں کو
نہ گُل نہ غُنچہ نہ پنچھی نہیں چنار ہمیں
یہ کیسا اترا ہے موسم بھی دل کے آنگن میں
جو سانس آتی ہے کرتی ہے بے قرار ہمیں
طرز میں اجتناب سا کچھ ہے
رُخ پہ بھی اضطراب سا کچھ ہے
مہر سا ماہتاب سا کچھ ہے
اس کا پرتُو جناب سا کچھ ہے
اس پہ تکیہ کریں تو کیسے کریں
زندگانی حباب سا کچھ ہے
ٹھنڈی سوندھی ہواؤں جیسا ہے
دھوپ میں مجھ کو چھاؤں جیسا ہے
اتر آتی ہے روح تک تاثیر
لہجہ اس کا شفاؤں جیسا ہے
مجھ کو ساحل کی فکر کیونکر ہو
ساتھ وہ نا خداؤں جیسا ہے
حالتِ اضطرار ہے کیسی
روح یہ بے قرار ہے کیسی
سانس گھٹنے لگی ہے سینے میں
آنکھ اختر شمار ہے کیسی
ہیں چمن میں اداس گُل بوٹے
اب کے آئی بہار ہے کیسی
میرا سکون میرا اعتبار واپس کر
مجھے تُو میرا وہ کھویا قرار واپس کر
تِرے سلوک نے دل کر دیا سپردِ خزاں
نہ چھین مجھ سے تُو میری بہار واپس کر
ملے گا کیا تجھے لے کر میرے شفق رخسار
اے عمرِ رفتہ! تُو میرا نکھار واپس کر