Showing posts with label مبارک لون. Show all posts
Showing posts with label مبارک لون. Show all posts

Thursday, 22 September 2022

سنا ہے وہ مجھ کو بھلانے لگا ہے

 سنا ہے وہ مجھ کو بھلانے لگا ہے

تبھی اپنے احساں جتانے لگا ہے

سنی جب سے اس نے رقیبوں کی باتیں

وہ تب سے نگاہیں چُرانے لگا ہے

بچھڑنے کا لگتا ارادہ ہے اس کا

قصیدے جو شب بھر سنانے لگا ہے

Thursday, 8 September 2022

خیالوں کو میں لفظوں میں ادا کر ہی نہیں پاتا

خیالوں کو میں لفظوں میں ادا کر ہی نہیں پاتا

مگر خود کو خیالوں سے جدا کر ہی نہیں پاتا

بُھلا دیکھا ہے پروانہ بھی جلنے کا ہُنر شاید

تبھی ہستی وہ اپنی اب فدا کر ہی نہیں پاتا

عطا مجھ کو کیا اتنا خدا نے، اور کیا مانگوں

اٹھا کر ہاتھ اپنے میں دعا کر ہی نہیں پاتا

Sunday, 4 September 2022

لگتا نہیں کسی کو ہے پیار زندگی سے

 لگتا نہیں کسی کو ہے پیار زندگی سے

آتے نظر ہیں ذی روح بیزار زندگی سے

جینے پہ بھی اگر ہو پہرہ تو اے دِوانو

بہتر ہے موت ایسی، سو بار زندگی سے

جب کٹ گئے روابط، تو یہ سراغ پایا

لیتا تھا رنگ سارے بازارِ زندگی سے

Saturday, 3 September 2022

اے میرے ارض وطن اے میرے جلتے چمن

 وطن کی نیلامی


اے میرے ارضِ وطن

اے میرے جلتے چمن

ہم کو منظور نہیں

تیرا نیلام ہو جانا

تیری مٹی کی زرخیزی

Friday, 2 September 2022

دنیا تلاش میں ہے اپنے حسین کی

 دہشت رہے گی کب تک شمرِ لعین کی

دنیا تلاش میں ہے اپنے حسینؑ کی

ممکن نہیں کہ دب کر وہ رہ سکے گا جو

تاریخ سے ہو واقف بدر و حُنین کی

رُوٹھا خدا ہے ہم سے، ناراض مسجدیں

آئے گی کیا اعانت ہم کو معین کی