سنا ہے وہ مجھ کو بھلانے لگا ہے
تبھی اپنے احساں جتانے لگا ہے
سنی جب سے اس نے رقیبوں کی باتیں
وہ تب سے نگاہیں چُرانے لگا ہے
بچھڑنے کا لگتا ارادہ ہے اس کا
قصیدے جو شب بھر سنانے لگا ہے
سنا ہے وہ مجھ کو بھلانے لگا ہے
تبھی اپنے احساں جتانے لگا ہے
سنی جب سے اس نے رقیبوں کی باتیں
وہ تب سے نگاہیں چُرانے لگا ہے
بچھڑنے کا لگتا ارادہ ہے اس کا
قصیدے جو شب بھر سنانے لگا ہے
خیالوں کو میں لفظوں میں ادا کر ہی نہیں پاتا
مگر خود کو خیالوں سے جدا کر ہی نہیں پاتا
بُھلا دیکھا ہے پروانہ بھی جلنے کا ہُنر شاید
تبھی ہستی وہ اپنی اب فدا کر ہی نہیں پاتا
عطا مجھ کو کیا اتنا خدا نے، اور کیا مانگوں
اٹھا کر ہاتھ اپنے میں دعا کر ہی نہیں پاتا
لگتا نہیں کسی کو ہے پیار زندگی سے
آتے نظر ہیں ذی روح بیزار زندگی سے
جینے پہ بھی اگر ہو پہرہ تو اے دِوانو
بہتر ہے موت ایسی، سو بار زندگی سے
جب کٹ گئے روابط، تو یہ سراغ پایا
لیتا تھا رنگ سارے بازارِ زندگی سے
وطن کی نیلامی
اے میرے ارضِ وطن
اے میرے جلتے چمن
ہم کو منظور نہیں
تیرا نیلام ہو جانا
تیری مٹی کی زرخیزی
دہشت رہے گی کب تک شمرِ لعین کی
دنیا تلاش میں ہے اپنے حسینؑ کی
ممکن نہیں کہ دب کر وہ رہ سکے گا جو
تاریخ سے ہو واقف بدر و حُنین کی
رُوٹھا خدا ہے ہم سے، ناراض مسجدیں
آئے گی کیا اعانت ہم کو معین کی