Showing posts with label شجاعت سحر جمالی. Show all posts
Showing posts with label شجاعت سحر جمالی. Show all posts

Thursday, 1 June 2023

پری زاد تیرے تصور میں اب بھی سفر کر رہا ہوں

 رائیگانی


پری زاد تیرے تصور میں اب بھی سفر کر رہا ہوں

چلا جا رہا ہوں  

کسی ایسی منزل کی جانب رواں ہوں

کہ جس سے مِرے خواب کا اب کوئی بھی تعلق نہیں ہے 

مِری آنکھ کے نور سے اس کی نیلی شعاعیں ذرا بھی نہیں ملتی جھلتیں 

Sunday, 16 April 2023

آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مرے دوست

 آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مِرے دوست

یاد پھر آیا مجھے میرا فسانہ مرے دوست

میں تِرے ہجر میں چپ چاپ جیئے جاتا ہوں

دل کو آتا ہے کہاں کوئی بہانہ مرے دوست

خود سے نکلوں تو نئے شہر کا نقشہ دیکھوں

اک زمانے سے ہوں محروم زمانہ مرے دوست

Friday, 14 April 2023

یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لامکاں کا کھیل ہے

 یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لامکاں کا کھیل ہے

اک فسوں ہے یہ جہاں سب آسماں کا کھیل ہے

مدتوں کے بعد کوئی ہم سے یہ کہہ کر ملا

کچھ نہیں یہ ہجر بس آہ و فغاں کا کھیل ہے

آج سوکھے پھول جب ہم کو کتابوں میں ملے

سوچنے پر یاد آیا باغباں کا کھیل ہے

Thursday, 13 April 2023

غم دوراں سے جو آزاد کرو گے مجھ کو

غمِ دوراں سے جو آزاد کرو گے مجھ کو

کیا کسی دشت میں آباد کرو گے مجھ کو

جاتے جاتے تِرے دل میں کہیں رہ جاؤں گا

جانتا ہوں کہ بہت یاد کرو گے مجھ کو

تم سے ہو گا نہ مداوا مِرے دکھ کا، لیکن

اپنے غم سونپ کے کچھ شاد کرو گے مجھ کو

Tuesday, 11 April 2023

ہر طرف ہے تاریکی روشنی مقفل ہے

 ہر طرف ہے تاریکی، روشنی مقفّل ہے

کب سے میرے کمرے میں زندگی مقفل ہے

خواب خواب منظر ہیں کیا سراب منظر ہیں

آب آب آنکھوں میں تشنگی مقفل ہے

اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی سانحہ ہو گا

آدمی کے ڈر سے اب آدمی مقفل ہے

Monday, 10 April 2023

دل کی دیوار میں تصویر لگی ہے کس کی

دل کی دیوار میں تصویر لگی ہے کس کی

بول  اٹھے نہ مصور یہ  کبھی، ہے کس کی

وہ مِرے خواب کا یوں خوابِ تمنا ہونا

گردش چرخ کے آگے بھی چلی ہے کس کی

کیا خبر دل کے محلے کی تجھے بادِ نسیم

کون سے رنگ میں یاں رات کٹی ہے کس کی

Tuesday, 1 November 2022

زمانے کو زمانے سے ڈرایا جا رہا ہے

زمانے کو زمانے سے ڈرایا جا رہا ہے

کوئی تو بھید ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے

کسی کی زندگی تھی سونپ دی تم نے کسی کو

کسی کا غم کسی سے اب اٹھایا جا رہا ہے

لبوں کو سی کے بیٹھو وصل کی باتیں نہ چھیڑو

کسی کی ہجر کا ماتم منایا جا رہا ہے

Sunday, 2 May 2021

دیکھیے گردش افلاک سے کیا بنتا ہے

دیکھیۓ گردشِ افلاک سے کیا بنتا ہے

نم نہیں خاک تو پھر خاک سے کیا بنتا ہے

ایک بھولی ہوئی صورت کے حسیں خد و خال

کوزہ گر اور بتا چاک سے کیا بنتا ہے

سال ہا سال کے غم مثلِ گُہر بنتے ہیں

کیا کہا؛ دیدۂ نم ناک سے کیا بنتا ہے