رائیگانی
پری زاد تیرے تصور میں اب بھی سفر کر رہا ہوں
چلا جا رہا ہوں
کسی ایسی منزل کی جانب رواں ہوں
کہ جس سے مِرے خواب کا اب کوئی بھی تعلق نہیں ہے
مِری آنکھ کے نور سے اس کی نیلی شعاعیں ذرا بھی نہیں ملتی جھلتیں
رائیگانی
پری زاد تیرے تصور میں اب بھی سفر کر رہا ہوں
چلا جا رہا ہوں
کسی ایسی منزل کی جانب رواں ہوں
کہ جس سے مِرے خواب کا اب کوئی بھی تعلق نہیں ہے
مِری آنکھ کے نور سے اس کی نیلی شعاعیں ذرا بھی نہیں ملتی جھلتیں
آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مِرے دوست
یاد پھر آیا مجھے میرا فسانہ مرے دوست
میں تِرے ہجر میں چپ چاپ جیئے جاتا ہوں
دل کو آتا ہے کہاں کوئی بہانہ مرے دوست
خود سے نکلوں تو نئے شہر کا نقشہ دیکھوں
اک زمانے سے ہوں محروم زمانہ مرے دوست
یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لامکاں کا کھیل ہے
اک فسوں ہے یہ جہاں سب آسماں کا کھیل ہے
مدتوں کے بعد کوئی ہم سے یہ کہہ کر ملا
کچھ نہیں یہ ہجر بس آہ و فغاں کا کھیل ہے
آج سوکھے پھول جب ہم کو کتابوں میں ملے
سوچنے پر یاد آیا باغباں کا کھیل ہے
غمِ دوراں سے جو آزاد کرو گے مجھ کو
کیا کسی دشت میں آباد کرو گے مجھ کو
جاتے جاتے تِرے دل میں کہیں رہ جاؤں گا
جانتا ہوں کہ بہت یاد کرو گے مجھ کو
تم سے ہو گا نہ مداوا مِرے دکھ کا، لیکن
اپنے غم سونپ کے کچھ شاد کرو گے مجھ کو
ہر طرف ہے تاریکی، روشنی مقفّل ہے
کب سے میرے کمرے میں زندگی مقفل ہے
خواب خواب منظر ہیں کیا سراب منظر ہیں
آب آب آنکھوں میں تشنگی مقفل ہے
اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی سانحہ ہو گا
آدمی کے ڈر سے اب آدمی مقفل ہے
دل کی دیوار میں تصویر لگی ہے کس کی
بول اٹھے نہ مصور یہ کبھی، ہے کس کی
وہ مِرے خواب کا یوں خوابِ تمنا ہونا
گردش چرخ کے آگے بھی چلی ہے کس کی
کیا خبر دل کے محلے کی تجھے بادِ نسیم
کون سے رنگ میں یاں رات کٹی ہے کس کی
زمانے کو زمانے سے ڈرایا جا رہا ہے
کوئی تو بھید ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے
کسی کی زندگی تھی سونپ دی تم نے کسی کو
کسی کا غم کسی سے اب اٹھایا جا رہا ہے
لبوں کو سی کے بیٹھو وصل کی باتیں نہ چھیڑو
کسی کی ہجر کا ماتم منایا جا رہا ہے
دیکھیۓ گردشِ افلاک سے کیا بنتا ہے
نم نہیں خاک تو پھر خاک سے کیا بنتا ہے
ایک بھولی ہوئی صورت کے حسیں خد و خال
کوزہ گر اور بتا چاک سے کیا بنتا ہے
سال ہا سال کے غم مثلِ گُہر بنتے ہیں
کیا کہا؛ دیدۂ نم ناک سے کیا بنتا ہے