Showing posts with label افضل ہزاروی. Show all posts
Showing posts with label افضل ہزاروی. Show all posts

Friday, 10 November 2023

حیرت کا امکان بناتا رہتا ہوں

 حیرت کا اِمکان بناتا رہتا ہوں

کچھ منظر وِیران بناتا رہتا ہوں

کوئی تو ان میں پُھول سجانے آئے گا

سارا دن گُلدان بناتا رہتا ہوں

پتھر جیسے خواب سجاؤں آنکھوں میں

مٹی کے ارمان بناتا رہتا ہوں

Monday, 22 May 2023

پتھر سے ٹکرانا تھا زخم تو لازم آنا تھا

پتھر سے ٹکرانا تھا

زخم تو لازم آنا تھا

کیا دھراتے پھرتے اب

قصہ بہت پرانا تھا

کیا پھر جچتا منظر کوئی

آنکھ میں روپ سہانا تھا

Thursday, 4 May 2023

یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

 یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

گر اس کی تصویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

اس کے دم سے رانجھا تھا میں وہ ہی مِری پہچان بنی

وہ گر میری ہیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

قائل کرنا کام تھا مشکل پر وہ قائل ہو ہی گیا

لہجے میں تاثیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

Sunday, 30 January 2022

سج گیا زخموں سے دل آنگن تو کیا

سج گیا زخموں سے دل آنگن تو کیا

نم ہوا اشکوں سے اب دامن تو کیا

جل چکا دھرتی کا سینہ دھوپ سے

اب اگر برسا ہے یہ ساون تو کیا

کوئی حسرت لے گیا دیدار کی

اب اٹھے ہے لاکھ وہ چلمن تو کیا

Sunday, 23 January 2022

وہ مجھے خواب دکھاتا ہے چلا جاتا ہے

وہ مجھے خواب دکھاتا ہے چلا جاتا ہے

اس کی تعبیر چھپاتا ہے چلا جاتا ہے

پاس آتا بھی نہیں پیار جتاتا بھی نہیں 

دور سے ہاتھ  ہلاتا ہے چلا جاتا ہے

ہے عجب طرز کا سائل جو گلی میں تیری

اک صدا خاص لگاتا ہے چلا جاتا ہے