حیرت کا اِمکان بناتا رہتا ہوں
کچھ منظر وِیران بناتا رہتا ہوں
کوئی تو ان میں پُھول سجانے آئے گا
سارا دن گُلدان بناتا رہتا ہوں
پتھر جیسے خواب سجاؤں آنکھوں میں
مٹی کے ارمان بناتا رہتا ہوں
حیرت کا اِمکان بناتا رہتا ہوں
کچھ منظر وِیران بناتا رہتا ہوں
کوئی تو ان میں پُھول سجانے آئے گا
سارا دن گُلدان بناتا رہتا ہوں
پتھر جیسے خواب سجاؤں آنکھوں میں
مٹی کے ارمان بناتا رہتا ہوں
پتھر سے ٹکرانا تھا
زخم تو لازم آنا تھا
کیا دھراتے پھرتے اب
قصہ بہت پرانا تھا
کیا پھر جچتا منظر کوئی
آنکھ میں روپ سہانا تھا
یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
گر اس کی تصویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
اس کے دم سے رانجھا تھا میں وہ ہی مِری پہچان بنی
وہ گر میری ہیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
قائل کرنا کام تھا مشکل پر وہ قائل ہو ہی گیا
لہجے میں تاثیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
سج گیا زخموں سے دل آنگن تو کیا
نم ہوا اشکوں سے اب دامن تو کیا
جل چکا دھرتی کا سینہ دھوپ سے
اب اگر برسا ہے یہ ساون تو کیا
کوئی حسرت لے گیا دیدار کی
اب اٹھے ہے لاکھ وہ چلمن تو کیا
وہ مجھے خواب دکھاتا ہے چلا جاتا ہے
اس کی تعبیر چھپاتا ہے چلا جاتا ہے
پاس آتا بھی نہیں پیار جتاتا بھی نہیں
دور سے ہاتھ ہلاتا ہے چلا جاتا ہے
ہے عجب طرز کا سائل جو گلی میں تیری
اک صدا خاص لگاتا ہے چلا جاتا ہے