چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا
مِری تمام عمر کا حساب کوئی لے گیا
یہ واقعہ ہے جب لُٹی مِرے چمن کی آبرو
لرزتی شاخ رہ گئی گلاب کوئی لے گیا
وہی تو اک ذریعۂ نجات میرے پاس تھا
مگر مِرے ضمیر کا ثواب کوئی لے گیا
چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا
مِری تمام عمر کا حساب کوئی لے گیا
یہ واقعہ ہے جب لُٹی مِرے چمن کی آبرو
لرزتی شاخ رہ گئی گلاب کوئی لے گیا
وہی تو اک ذریعۂ نجات میرے پاس تھا
مگر مِرے ضمیر کا ثواب کوئی لے گیا
حرفِ غزل سے رنگِ تمنا بھی چھین لے
میں جل رہا ہوں آتشِ نغمہ بھی چھین لے
بے برگ و بار ہو گیا امروز کا شجر
مجھ سے متاعِ گلشنِ فردا بھی چھین لے
میرے جنوں کو حاجتِ دیوار و در نہیں
گھر سے جدا ہوا ہوں تو سایہ بھی چھین لے
اس کے کرم سے ہے نہ تمہاری نظر سے ہے
موسم دلوں کا درد کے روشن شجر سے ہے
جس سے مِرے وجود کے پہلو عیاں ہوئے
شاید مِرا معاملہ اس کے ہنر سے ہے
حائل ہوا نہ کوئی تعلق کی راہ میں
دائم تمام سلسلہ بنتِ سحر سے ہے
پھر کسی یاد کا دروازہ کھُلا آہستہ
کون آتا ہے؟ چلا آئے ذرا آہستہ
دم زدن میں نہیں جائے گی بہار گلشن
آبلے پھوٹیں گے اے آبلہ پا! آہستہ
بات وہ صاف ہی کب تھی جو سمجھ میں آتی
مجھ سے کچھ کہتی رہی چشم حیا، آہستہ
یاد ماضی کے چراغوں کو بجھایا نہ کرو
تم بھی تنہا نہ رہو مجھ کو بھی تنہا نہ کرو
✨نفس بادِ صبا ہاتھ نہ آئے گا کبھی
گل کی اڑتی ہوئی خوشبو کا احاطہ نہ کرو
ہم نے دیکھا ہے دم آخر شب خواب کوئی
تم سے کہنا ہے کہ تعبیر کا چرچا نہ کرو