Showing posts with label حمید الماس. Show all posts
Showing posts with label حمید الماس. Show all posts

Thursday, 15 September 2022

چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا

 چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا

مِری تمام عمر کا حساب کوئی لے گیا

یہ واقعہ ہے جب لُٹی مِرے چمن کی آبرو

لرزتی شاخ رہ گئی گلاب کوئی لے گیا

وہی تو اک ذریعۂ نجات میرے پاس تھا

مگر مِرے ضمیر کا ثواب کوئی لے گیا

Wednesday, 7 September 2022

حرف غزل سے رنگ تمنا بھی چھین لے

 حرفِ غزل سے رنگِ تمنا بھی چھین لے

میں جل رہا ہوں آتشِ نغمہ بھی چھین لے

بے برگ و بار ہو گیا امروز کا شجر

مجھ سے متاعِ گلشنِ فردا بھی چھین لے

میرے جنوں کو حاجتِ دیوار و در نہیں

گھر سے جدا ہوا ہوں تو سایہ بھی چھین لے

Tuesday, 30 August 2022

اس کے کرم سے ہے نہ تمہاری نظر سے ہے

 اس کے کرم سے ہے نہ تمہاری نظر سے ہے

موسم دلوں کا درد کے روشن شجر سے ہے

جس سے مِرے وجود کے پہلو عیاں ہوئے

شاید مِرا معاملہ اس کے ہنر سے ہے

حائل ہوا نہ کوئی تعلق کی راہ میں

دائم تمام سلسلہ بنتِ سحر سے ہے

Sunday, 6 June 2021

پھر کسی یاد کا دروازہ کھلا آہستہ

 پھر کسی یاد کا دروازہ کھُلا آہستہ

کون آتا ہے؟ چلا آئے ذرا آہستہ

دم زدن میں نہیں جائے گی بہار گلشن

آبلے پھوٹیں گے اے آبلہ پا! آہستہ

بات وہ صاف ہی کب تھی جو سمجھ میں آتی

مجھ سے کچھ کہتی رہی چشم حیا، آہستہ

Monday, 30 November 2020

یاد ماضی کے چراغوں کو بجھایا نہ کرو

 یاد ماضی کے چراغوں کو بجھایا نہ کرو

تم بھی تنہا نہ رہو مجھ کو بھی تنہا نہ کرو

✨نفس بادِ صبا ہاتھ نہ آئے گا کبھی

گل کی اڑتی ہوئی خوشبو کا احاطہ نہ کرو

ہم نے دیکھا ہے دم آخر شب خواب کوئی

تم سے کہنا ہے کہ تعبیر کا چرچا نہ کرو