Showing posts with label اکرام بسرا. Show all posts
Showing posts with label اکرام بسرا. Show all posts

Monday, 19 April 2021

اب تو آتے ہوں گے کب کے بھیجے ہیں

 اب تو آتے ہوں گے، کب کے بھیجے ہیں 

میں نے تم کو لینے رستے بھیجے ہیں 

اپنی طرف سے تیرا وقت بچایا ہے 

تیری طرف سے خود کو دِلاسے بھیجے ہیں 

اس کی لُغت میں تنہائی کا لفظ بھی ہے

جس نے ہر اک شے کے جوڑے بھیجے ہیں

Monday, 12 April 2021

کوئی ٹیگور کی کویتا ہے

 کوئی ٹیگور کی کویتا ہے

لوگ جب شاعری میں جیتے تھے

تُو اسی دور کی کویتا ہے

دُودھیا راستے کے کونے میں

اپنے ہونے میں اور نا ہونے میں

جانے کتنے برس سکوں کر کے

Wednesday, 31 March 2021

رستے کتنا تھک جاتے ہیں

 رستے کتنا تھک جاتے ہیں

پھر بھی منزل تک جاتے ہیں

پتوں کو آرام نہیں ہے

کان ہوا کے پک جاتے ہیں

ایک طرف سے تم آتے ہو

چاروں اور دھڑک جاتے ہیں

Tuesday, 30 March 2021

میرا بیٹا کسی نے دیکھا ہے کیا

 میرا بیٹا کسی نے دیکھا ہے کیا؟


صحن میں جب ہوا کے جھونکے سے

کوئی ہلکی سی چاپ ہوتی ہے

اپنے بوڑھے نحیف لہجے میں 

ایک ماں پوچھ کر یہ روتی ہے

کوئی بتلاؤ نا! کہاں ہے وہ؟

Monday, 29 March 2021

روح کو میری توجہ چاہیے

 روح کو میری توجہ چاہیے

زخم سے گہری توجہ چاہیے

گھر کی حالت دیکھ کر لگتا نہیں

اب اسے کوئی توجہ چاہیے

جم گئی ہے کائی سی دہلیز پر

تیرے قدموں کی توجہ چاہیے

Sunday, 28 March 2021

گناہ سے آگے کی بات

 وہ مرد ہوتا

تو اُس کا چہرہ نہ زرد ہوتا 

جب اس کی بیٹی نے 

باپ ہونے کا حرف مانگا 

وجود اپنے کا شرف مانگا 

عجیب حیرت میں پڑ گیا وہ 

نہ دلیلیں نہ ہی ابابیلیں صبر کے گھونٹ ہیں وہی پی لیں

 نہ دلیلیں، نہ ہی ابابیلیں

صبر کے گھونٹ ہیں، وہی پی لیں

کیسی بے خواب ہیں سبھی آنکھیں

جس طرح خشک و بے اماں جھیلیں

مات کھا جائیں ضبط سے اپنے

اور انسانیت پہ بازی لیں