اب تو آتے ہوں گے، کب کے بھیجے ہیں
میں نے تم کو لینے رستے بھیجے ہیں
اپنی طرف سے تیرا وقت بچایا ہے
تیری طرف سے خود کو دِلاسے بھیجے ہیں
اس کی لُغت میں تنہائی کا لفظ بھی ہے
جس نے ہر اک شے کے جوڑے بھیجے ہیں
اب تو آتے ہوں گے، کب کے بھیجے ہیں
میں نے تم کو لینے رستے بھیجے ہیں
اپنی طرف سے تیرا وقت بچایا ہے
تیری طرف سے خود کو دِلاسے بھیجے ہیں
اس کی لُغت میں تنہائی کا لفظ بھی ہے
جس نے ہر اک شے کے جوڑے بھیجے ہیں
کوئی ٹیگور کی کویتا ہے
لوگ جب شاعری میں جیتے تھے
تُو اسی دور کی کویتا ہے
دُودھیا راستے کے کونے میں
اپنے ہونے میں اور نا ہونے میں
جانے کتنے برس سکوں کر کے
رستے کتنا تھک جاتے ہیں
پھر بھی منزل تک جاتے ہیں
پتوں کو آرام نہیں ہے
کان ہوا کے پک جاتے ہیں
ایک طرف سے تم آتے ہو
چاروں اور دھڑک جاتے ہیں
میرا بیٹا کسی نے دیکھا ہے کیا؟
صحن میں جب ہوا کے جھونکے سے
کوئی ہلکی سی چاپ ہوتی ہے
اپنے بوڑھے نحیف لہجے میں
ایک ماں پوچھ کر یہ روتی ہے
کوئی بتلاؤ نا! کہاں ہے وہ؟
روح کو میری توجہ چاہیے
زخم سے گہری توجہ چاہیے
گھر کی حالت دیکھ کر لگتا نہیں
اب اسے کوئی توجہ چاہیے
جم گئی ہے کائی سی دہلیز پر
تیرے قدموں کی توجہ چاہیے
وہ مرد ہوتا
تو اُس کا چہرہ نہ زرد ہوتا
جب اس کی بیٹی نے
باپ ہونے کا حرف مانگا
وجود اپنے کا شرف مانگا
عجیب حیرت میں پڑ گیا وہ
نہ دلیلیں، نہ ہی ابابیلیں
صبر کے گھونٹ ہیں، وہی پی لیں
کیسی بے خواب ہیں سبھی آنکھیں
جس طرح خشک و بے اماں جھیلیں
مات کھا جائیں ضبط سے اپنے
اور انسانیت پہ بازی لیں