اب تو آتے ہوں گے، کب کے بھیجے ہیں
میں نے تم کو لینے رستے بھیجے ہیں
اپنی طرف سے تیرا وقت بچایا ہے
تیری طرف سے خود کو دِلاسے بھیجے ہیں
اس کی لُغت میں تنہائی کا لفظ بھی ہے
جس نے ہر اک شے کے جوڑے بھیجے ہیں
قاصد کی جاں بخشی پر ممنون ہوں میں
خط میں اس نے خط کے پُرزے بھیجے ہیں
کیسے کم ہو سکتے ہیں جو غم تُو نے
ماپ تول کے اندازے سے بھیجے ہیں
تاریکی ہم کھینچ کے لائے ہیں گھر تک
ڈُوبتے سُورج کو بس تنکے بھیجے ہیں
سرحد پار کسی پر جب بھی پیار آیا
ہمسایوں کو یونہی تحفے بھیجے ہیں
امن کی خاطر اتنا ہی کر سکتا ہوں
میں نے جنگ میں اپنے بیٹے بھیجے ہیں
اکرام بسرا
No comments:
Post a Comment