Showing posts with label حسنین اکبر. Show all posts
Showing posts with label حسنین اکبر. Show all posts

Sunday, 8 February 2026

گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں

 گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں

ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں

یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے

ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں

خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر

کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں

Friday, 6 February 2026

کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ

رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ

نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ

خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ

عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ

گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ

Thursday, 22 August 2024

ہر اک شجر قصیدہ تھا ہر اک کھجور نعت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر اک شجر قصیدہ تھا ہر اک کھجور نعت

صحرا کو کر گیا شبِ اسریٰ کا نور نعت

احمدﷺ حمیدؐ حامدؐ و محمودﷺ کی قسم

عین السطور حمد ہے بین السطور نعت

انجیل تیسری ہے تو قرآن آخری

تورات پہلی نعت تھی دُوجی زبور نعت

Friday, 5 January 2024

رکھے معبود نے بخشش کے بہانے کتنے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رکھے معبود نے بخشش کے بہانے کتنے

نعت لے جائے گی جنت میں نہ جانے کتنے

جھاڑ دیں سیدِ لولاکﷺ تو پا جائیں وجود

گردِ نعلینِ پیمبرﷺ سے زمانے کتنے

لا نہ پایا کوئی بھی سورۂ کوثر کا جواب

اہلِ مکہ نے گھڑے جُھوٹے فسانے کتنے

Tuesday, 26 December 2023

رحمت کے دربار سجائے جاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رحمت کے دربار سجائے جاتے ہیں

آج زمیں پر عرش بِچھائے جاتے ہیں

آج وہ وجہِ خلقت جگ میں آیا ہے

جس کے لیے ہم لوگ بنائے جاتے ہیں

اسمِ نبیﷺ کا وِرد پکانا پڑتا ہے

صحرا میں یوں پُھول کِھلائے جاتے ہیں

Friday, 1 December 2023

امی لقب سے علم برہان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اُمی لقب سے عَلَّمَ بُرہانِ نعت ہے

اقرأ باسم ربک اعلانِ نعت ہے

وہ پہلا نعت گو وہی سلطانِ نعت ہے

ہر نعت گو رعیّتِ عمرانِؑ نعت ہے

بنیادِ مدحِ سید الابرارﷺ ہے درود

فرمانِ کردگار میں فرمانِ نعت ہے

Friday, 9 September 2022

کنائے ماند ہوئے دم بخود اشارے ہوئے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کنائے ماند ہوئے دم بخود اشارے ہوئے

نثار حسنِ محمدﷺ پہ استعارے ہوئے

جو لفظ آپؐ کی تصدیق میں اتارے گئے

وہ لفظ آپؐ کی تصدیق سے سپارے ہوئے

امانِ فرشِ زمیں ہو کہ سائبانِ فلک

ہیں دو لباس پرانے تِرےؐ اتارے ہوئے

Thursday, 8 September 2022

کاش خوش بخت کوئی ایسی دعا ہو آمین

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کاش خوش بخت کوئی ایسی دعا ہو آمین

جس کی تائید میں آقاﷺ نے کہا ہو آمین

پہلے تو حبس سے محبوس فضا ہو آمین

پھر میسر مجھے طیبہ کی ہوا ہو آمین

نعت وہ نعت کہ ہو جائے عدو خلقِ خدا

کم سے کم موت کی مِدحت پہ سزا ہو آمین

Saturday, 27 August 2022

وہ رخت سفر جس میں فقط اذن سفر ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وہ رختِ سفر جس میں فقط اذنِ سفر ہو

اور اگلے قدم آپﷺ کی دہلیز پہ سر ہو

وہ شخص کہ منزل ہی جسے راہگزر ہو

کب اس کی تمنا ہے کہ اس شہر میں گھر ہو

اس دن کی طلب میں ہے یہ سانسوں کی اذیت

جس دن یہ مدینے سے صدا آئے کدھر ہو

Thursday, 23 December 2021

ہے عشقِ محمد کا دستور جداگانہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہے عشقِ محمدﷺ کا دستور جداگانہ

جینے کی علامت ہے سرکارؐ پہ مر جانا

طے کر کے یہ نکلا ہے گھر سے کوئی دیوانہ

اس بار مدینے سے واپس ہی نہیں آنا

جبرئیلؑ سے بھی آ گے پہنچے ہیں شبِ اسریٰ

کام آیا ہے ذروں کا قدموں سے لپٹ جانا

Saturday, 4 December 2021

بیاں کو نعمت خضریٰ سے بھر دیا جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بیاں کو نعمتِ خضریٰ سے بھر دیا جائے

جو لکھ رہا ہوں اسے نعت کر دیا جائے

نبیؐ کے نور سے لطفِ سحر دیا جائے

سحر کو شمس تو شب کو قمر دیا جائے

میں ایک سنگ ہوں اور بولنے کی حسرت ہے

مجھے بھی اُنؐ کی ہتھیلی پہ دھر دیا جائے

Tuesday, 28 September 2021

دل کل کا مر گیا ہے کہ بے کل نہیں رہا

 دل کل کا مر گیا ہے کہ بے کل نہیں رہا

وہ غم جو زندگی تھا مسلسل نہیں رہا

سر سبز ہے زمین تِرے بانجھ پن کا بوجھ

پودوں پہ پھول پیڑوں پہ اک پھل نہیں رہا

خیرات، نذر، صدقہ کسی کا اثر نہیں

رنگِ خزاں بہار میں بھی ٹل نہیں رہا

Thursday, 1 April 2021

قسمت آنکھ مچولی کھیلے موت رہے ہرجائی

 قسمت آنکھ مچولی کھیلے موت رہے ہرجائی

ہر دو صورت بھوگ رہا ہوں جیون کی رُسوائی

نغمے کی چنچلتا ہو یا نوحے کی گِریائی

لے کا ساتھ نبھائیں ہر دم نوبت اور شہنائی

اک کونے میں بیٹھے بیٹھے علم اُجالے عالم

کتنی کرنیں بانٹ رہی ہے سورج کی تنہائی

Tuesday, 30 March 2021

ہر اک شجر قصیدہ تھا ہر اک کھجور نعت

عارفانہ کلام نعت سرور کائناتﷺ

کلام بر سفرِ معراجِ نبویﷺ و شبِ برأت


ہر اک شجر قصیدہ تھا ہر اک کھجُور نعت

صحرا کو کر گیا شبِ اسریٰ کا نُور نعت

احمدؐ، حمیدؐ، حامدؐ و محمودﷺ کی قسم

عین السطُور حمد ہے بین السطُور نعت

انجیل تیسری ہے، تو قرآن آخری

تورات پہلی نعت تھی دُوجی زبُور نعت

Tuesday, 17 November 2020

ہم نے جب کہہ دیا نہیں ملنا

 ہم نے جب کہہ دیا نہیں ملنا

اس کا مطلب ہوا نہیں ملنا

آسماں بھر گیا ہے شکووں سے

آہ کو راستہ نہیں ملنا

وقت پر کیوں نہیں چلے گھر سے

اب کوئی قافلہ نہیں ملنا

Monday, 16 November 2020

بھنور سفینہ سفر سب کا سب کہانی ہے

 بھنور سفینہ سفر سب کا سب کہانی ہے

مسافرت بھی اذیت کی اک نشانی ہے

کسی کی پیاس بجھانے کے کام کی بھی نہیں

ہماری عمر سمندر کا کھارا پانی ہے

نشانِ سجدہ میں بھرنی ہے بندگی کی ضیا

دِیا🪔 بنا لیا ہے، روشنی بنانی ہے

یہ تلازمے یہ علامیے ذرا دور رکھ

 یہ تلازمے، یہ علامیے ذرا دور رکھ

مرے غم سے اپنے مکالمے ذرا دور رکھ

میں ہوا سے محوِ کلام ہوں، ابھی صبر کر

یہ تسلیوں کے بجھے دِیے ذرا دور رکھ

ابھی جل بجھیں گے یہ موم کے ترے آفتاب

انہیں وحشتوں کے چراغ سے ذرا دور رکھ