گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں
ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں
یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے
ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر
کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں