Thursday, 23 December 2021

ہے عشقِ محمد کا دستور جداگانہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہے عشقِ محمدﷺ کا دستور جداگانہ

جینے کی علامت ہے سرکارؐ پہ مر جانا

طے کر کے یہ نکلا ہے گھر سے کوئی دیوانہ

اس بار مدینے سے واپس ہی نہیں آنا

جبرئیلؑ سے بھی آ گے پہنچے ہیں شبِ اسریٰ

کام آیا ہے ذروں کا قدموں سے لپٹ جانا

تُو ایک وسیلہ ہے آقاﷺ کی زیارت کا

اے دستِ اجل تجھ سے کس بات کا گھبرانا

جا پوچھ لے آدمؑ س سے مٹی ہے خراب اس کی

جس نے بھی محمدﷺ کو اپنا سا بشر جانا

سلمانؑ کا عاشق ہوں، بہلول کا شیدا ہوں

کہتی ہے مجھے دنیا، دیوانوں کا دیوانہ


حسنین اکبر

No comments:

Post a Comment