Showing posts with label مظفر عازم. Show all posts
Showing posts with label مظفر عازم. Show all posts

Monday, 14 September 2020

نہ ہار کی نہ کبھی جیت کی کتاب پڑھی

نہ ہار کی، نہ کبھی جیت کی کتاب پڑھی
ازل سے ہم نے فقط پِیت کی کتاب پڑھی
جو بے زبان کلی کی چٹک سے پھوٹا تھا
زبانِ لال سے اس گیت کی کتاب پڑھی
جو کھینچتی ہے سمندر کے پاس دریا کو
سفر میں ایک اسی رِیت کی کتاب پڑھی

شب وہ شہر خرابات میں کیا ہم نے گزاری

شب وہ شہرِ خرابات میں کیا ہم نے گزاری
لو اک شمعِ فروزاں کی دل و جاں میں اتاری
نے تھی نارِ نواہائے پُر اسرار سے لبریز
لے تھی روئے گلِ تر کے لیے بادِ بہاری
دیکھیں اپنی نگاہوں نے بھی کچھ اپنی ادائیں
رخ تک آئینہ کے آ نہ گئی آہ ہماری 

Sunday, 13 September 2020

آنکھ صحرا سے بھی ملا بارش

بحر ہی میں نہ ڈوبنا بارش
آنکھ صحرا سے بھی ملا بارش
ریت سے رم تِرا تماشا ہے
آبشاروں کی آشنا بارش
پیاس بھی تھی تو پاس بھی تھا تِرا
سب کا شیوہ گِلہ نہ تھا بارش

آتش جاں میں جل رہا ہے چنار

آتشِ جاں میں جل رہا ہے چنار
اپنے موسم بدل رہا ہے چنار
چشمِ نرگس کی آبیاری سے
وادئ گل میں پل رہا ہے چنار
غرقِ دریا غرور طوفاں کا
آفتوں میں اٹل رہا ہے چنار

Friday, 11 September 2020

سفر کے ستم بھی دل آزار تھے

سفر کے ستم بھی دل آزار تھے
مسافر بھی کچھ سست رفتار تھے
یہ منزل پرستوں سے مخفی رہا
خمِ رہ گزر گیسوئے یار تھے
شکستِ خودی کے بجھائے ہوئے
دل ان کے تمنا سے بیزار تھے

Thursday, 10 September 2020

اپنی تلخی مے سے ساغر ٹوٹ گیا

اپنی تلخئ مے سے ساغر ٹوٹ گیا
پینے والا آنسو پی کر ٹوٹ گیا
بت کو پجاری بیچ کے کھانے آ نکلا
شرمِ گنہ سے تیشۂ آزر ٹوٹ گیا
جادو اب بھی ایک جہاں پر غالب تھا
خود محرومِ یقیں جادوگر ٹوٹ گیا

Wednesday, 9 September 2020

خود اپنا جرم خود اپنی سزا تھی

خود اپنا جرم خود اپنی سزا تھی
وہ رات افسردگی کی انتہا تھی
سرِ شام آرزو ہی سو گئی تھی
نہ دل بے کل نہ ہونٹوں پر دعا تھی
ہوا بھی خشک لب ہی رینگتی تھی
کلی بھی بے دلی میں مبتلا تھی

Tuesday, 8 September 2020

جنگل رحمت باراں کو ترستے ہیں ہمارے

جنگل رحمتِ باراں کو ترستے ہیں ہمارے
بادل بحر کی گہرائیوں کو ہو گئے پیارے
اب کے آگ برستی ہے ہوا کوہ و دمن پر
اب کے تشنگئ سرو و سمن کس کو پکارے
یاں اس جوئے خراماں کو خزاں چاٹ رہی ہے
واں اس شاخِ صنوبر پہ ستمگار ہیں آرے

Monday, 7 September 2020

ہریالی اور نیل گگن ناچ مرے متوالے من

ہریالی اور نیل گگن
ناچ مِرے متوالے من
نیل آکاش میں کوئیلیا
لہری، من موجی، بِرہن
پھولوں کو چھب دکھلاتی
تتلی پھلواری میں مگن

اذان

اذان

ہوا
تِرا فرضِ منصبی ہے
کہ شاخساروں سے
پیلے پتوں کا بوجھ اتارے

مگر
یہ اجڑے چمن
یہ اکھڑے شجر

Sunday, 6 September 2020

کرب تاریکی میں تاروں کی بہار

کربِ تاریکی میں تاروں کی بہار
کچھ تو جگنو بھی کریں گے یلغار
وقت نے پیڑ پہ "پت جھڑ" لکھا
پیڑ نے پالی ہے رگ رگ میں بہار
راہ کیوں بھول گئی ہے برکھا
اے مِرے پیاسے پکھیرو، ملہار

دعا سمندر یہ بادل کے نادار ٹکڑے

دعا

سمندر
یہ بادل کے نادار ٹکڑے
جنہیں اپنی سب کی اور بے مائیگی
اوجِ موجِ ہوا پر چڑھا کر
بلندی کے موہوم جھانسے میں لا کر