سفر کے ستم بھی دل آزار تھے
مسافر بھی کچھ سست رفتار تھے
یہ منزل پرستوں سے مخفی رہا
خمِ رہ گزر گیسوئے یار تھے
شکستِ خودی کے بجھائے ہوئے
ہواؤں کے پاؤں میں زنجیر تھی
صدا کے سلیقے گرفتار تھے
فرات ان کے گاؤں کے دامن میں تھا
کنارے مگر آبِ تلوار تھے
وہ ہشیار جو سر کٹا کر گئے
جمالِ نظر کے خریدار تھے
تِری یاد کی آنچ آتی رہی
شبِ غم کے لمحات گلنار تھے
غزل اب تِرے دم سے ہیں لب کشا
وہ عازم کہ بس عجزِِ اظہار تھے
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment