Friday, 11 September 2020

سفر کے ستم بھی دل آزار تھے

سفر کے ستم بھی دل آزار تھے
مسافر بھی کچھ سست رفتار تھے
یہ منزل پرستوں سے مخفی رہا
خمِ رہ گزر گیسوئے یار تھے
شکستِ خودی کے بجھائے ہوئے
دل ان کے تمنا سے بیزار تھے
ہواؤں کے پاؤں میں زنجیر تھی
صدا کے سلیقے گرفتار تھے
فرات ان کے گاؤں کے دامن میں تھا
کنارے مگر آبِ تلوار تھے
وہ ہشیار جو سر کٹا کر گئے
جمالِ نظر کے خریدار تھے
تِری یاد کی آنچ آتی رہی
شبِ غم کے لمحات گلنار تھے
غزل اب تِرے دم سے ہیں لب کشا
وہ عازم کہ بس عجزِِ اظہار تھے

مظفر عازم

No comments:

Post a Comment