Showing posts with label منیب برہانی. Show all posts
Showing posts with label منیب برہانی. Show all posts

Saturday, 21 March 2026

منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ

 منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ

مِرے قریب مِری زندگی کو لے آؤ

تمام عمر گزاری ہے جس کی فرقت میں

مِری تمنا مِری زندگی کو، لے آؤ

وہ جس مقام پہ درویش مسکراتا ہے

اُسی مقام پہ ہر آدمی کو لے آؤ

Thursday, 31 October 2024

تنگدستی میں پھول آئے اگر

 تنگ دستی میں پھول آئے اگر

کیا کسی کو حصُول آئے اگر

اس کو لکھ دیں گے ہم بھی حرفِ وفا

اس کی جانب سے پھول آئے اگر

اس کی فِطرت لطیف ہو جائے

مل کے خوشبو سے دُھول آئے اگر

Sunday, 29 September 2024

کیا کچھ وہ مقام اپنا بھی پہچان رہے ہیں

 کیا کچھ وہ مقام اپنا بھی پہچان رہے ہیں

جو لوگ کہ دِن رات خلا چھان رہے ہیں

اب ان کی جبیں ظلمت و نفرت کی جبیں ہے

جو کہتے ہیں انسان کہ انسان رہے ہیں

یہ شاخیں کہ دامن میں کوئی پھول نہیں ہے

کیا خاک وہ گلشن کے نگہبان رہے ہیں

Saturday, 14 September 2024

گل سے بھی اہل چمن خوشبو جدا کر دیکھو

 گُل سے بھی اہل چمن خوشبو جدا کر دیکھو

جی میں آئے جو تمہارے وہ جفا کر دیکھو

ہم ہیں انسان، تمہی جیسے ہیں آدم زادے

ہم سے افلاس کے پتھر جو ہٹا کر دیکھو

اتنی بگڑی تو نہ تھی پہلے سحر کی صورت

گزری کیا عالم خورشید پہ جا کر دیکھو