منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ
مِرے قریب مِری زندگی کو لے آؤ
تمام عمر گزاری ہے جس کی فرقت میں
مِری تمنا مِری زندگی کو، لے آؤ
وہ جس مقام پہ درویش مسکراتا ہے
اُسی مقام پہ ہر آدمی کو لے آؤ
منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ
مِرے قریب مِری زندگی کو لے آؤ
تمام عمر گزاری ہے جس کی فرقت میں
مِری تمنا مِری زندگی کو، لے آؤ
وہ جس مقام پہ درویش مسکراتا ہے
اُسی مقام پہ ہر آدمی کو لے آؤ
تنگ دستی میں پھول آئے اگر
کیا کسی کو حصُول آئے اگر
اس کو لکھ دیں گے ہم بھی حرفِ وفا
اس کی جانب سے پھول آئے اگر
اس کی فِطرت لطیف ہو جائے
مل کے خوشبو سے دُھول آئے اگر
کیا کچھ وہ مقام اپنا بھی پہچان رہے ہیں
جو لوگ کہ دِن رات خلا چھان رہے ہیں
اب ان کی جبیں ظلمت و نفرت کی جبیں ہے
جو کہتے ہیں انسان کہ انسان رہے ہیں
یہ شاخیں کہ دامن میں کوئی پھول نہیں ہے
کیا خاک وہ گلشن کے نگہبان رہے ہیں
گُل سے بھی اہل چمن خوشبو جدا کر دیکھو
جی میں آئے جو تمہارے وہ جفا کر دیکھو
ہم ہیں انسان، تمہی جیسے ہیں آدم زادے
ہم سے افلاس کے پتھر جو ہٹا کر دیکھو
اتنی بگڑی تو نہ تھی پہلے سحر کی صورت
گزری کیا عالم خورشید پہ جا کر دیکھو