Showing posts with label علی مزمل. Show all posts
Showing posts with label علی مزمل. Show all posts

Wednesday, 23 November 2022

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں 

عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں 

زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں 

زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں 

کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے 

کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں 

Monday, 12 September 2022

حسب مقصود ہو گیا ہوں میں

 حسبِ مقصود ہو گیا ہوں میں 

راکھ کا دُود ہو گیا ہوں میں 

ایک کمرے تلک بصیرت ہے 

کتنا محدود ہو گیا ہوں میں

نام پہلے برائے نام تو تھا 

اب تو مفقود ہو گیا ہوں میں 

Friday, 18 March 2022

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

 تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں

زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے

کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

Sunday, 12 December 2021

یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں

 یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں

مگر میں خود کو ادھورا سجھائی دیتا ہوں

اجل کو جا کے گریبان سے پکڑ لائے

میں زندگی کو وہاں تک رسائی دیتا ہوں

میں اپنے جسم کے سب منقسم حوالوں کو

بنامِ رزق،۔ سخن کی کمائی دیتا ہوں

Friday, 13 August 2021

شہر دل کنج بیابان نہیں تھا پہلے

 شہرِ دل کنجِ بیابان نہیں تھا پہلے 

میں کبھی اتنا پریشان نہیں تھا پہلے 

بائیں پہلو میں جو اک سنگ پڑا ہے ساکت 

یہ دھڑکتا بھی تھا، بے جان نہیں تھا پہلے 

شہریاروں سے مراسم تھے بہت ہی گہرے 

تیرہ بختوں سے بھی انجان نہیں تھا پہلے

Wednesday, 4 August 2021

باب تحریر مکافات جنوں تھا یوں تھا

 باب تحریر مکافاتِ جنوں تھا، یوں تھا

سوزِ دل درجۂ ایقان و سکوں تھا، یوں تھا

رات تا دیر لبِ بام رہے اشک رواں

قصۂ گریۂ مہتابِ زبوں تھا، یوں تھا

پاؤں بھی کاٹ دئیے حلقۂ زنجیر کے ساتھ

وائے الفت کہ مِرا شوق فزوں تھا، یوں تھا

Tuesday, 3 August 2021

خسارہ در خسارہ کر لیا جائے

 خسارہ در خسارہ کر لیا جائے 

جنوں کو استعارہ کر لیا جائے 

یہ نقطہ بھی قرینِ مصلحت ہے 

عداوت کو گوارہ کر لیا جائے 

درونِ دل یمِ افسردگی ہے 

کوئی تنکا سہارا کر لیا جائے 

Monday, 29 March 2021

نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی

 نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی

ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی

فریبِ کُل ہے زمیں، اور نمونۂ اضداد

کہ ابتدا ہی گناہ و ثواب سے ہوئی تھی

بس ایک شب کی کہانی نہیں کہ بھُول سکیں

ہر ایک شب ہی مماثل عتاب سے ہوئی تھی

Saturday, 27 March 2021

در شہی سے در گدائی پہ آ گیا ہوں

 درِ شہی سے درِ گدائی پہ آ گیا ہوں

میں نرم بستر سے چارپائی پہ آ گیا ہوں

بدن کی ساری تمازتیں ماند پڑ رہی ہیں

وہ بے بسی ہے کہ پارسائی پہ آ گیا ہوں

نہیں ہے چہرے کا حال پڑھنے کی خُو کسی میں

سکوت توڑا ہے لب کشائی پہ آ گیا ہوں