تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں
زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے
کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں
زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے
کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
حسبِ مقصود ہو گیا ہوں میں
راکھ کا دُود ہو گیا ہوں میں
ایک کمرے تلک بصیرت ہے
کتنا محدود ہو گیا ہوں میں
نام پہلے برائے نام تو تھا
اب تو مفقود ہو گیا ہوں میں
تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں
زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے
کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں
یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں
مگر میں خود کو ادھورا سجھائی دیتا ہوں
اجل کو جا کے گریبان سے پکڑ لائے
میں زندگی کو وہاں تک رسائی دیتا ہوں
میں اپنے جسم کے سب منقسم حوالوں کو
بنامِ رزق،۔ سخن کی کمائی دیتا ہوں
شہرِ دل کنجِ بیابان نہیں تھا پہلے
میں کبھی اتنا پریشان نہیں تھا پہلے
بائیں پہلو میں جو اک سنگ پڑا ہے ساکت
یہ دھڑکتا بھی تھا، بے جان نہیں تھا پہلے
شہریاروں سے مراسم تھے بہت ہی گہرے
تیرہ بختوں سے بھی انجان نہیں تھا پہلے
باب تحریر مکافاتِ جنوں تھا، یوں تھا
سوزِ دل درجۂ ایقان و سکوں تھا، یوں تھا
رات تا دیر لبِ بام رہے اشک رواں
قصۂ گریۂ مہتابِ زبوں تھا، یوں تھا
پاؤں بھی کاٹ دئیے حلقۂ زنجیر کے ساتھ
وائے الفت کہ مِرا شوق فزوں تھا، یوں تھا
خسارہ در خسارہ کر لیا جائے
جنوں کو استعارہ کر لیا جائے
یہ نقطہ بھی قرینِ مصلحت ہے
عداوت کو گوارہ کر لیا جائے
درونِ دل یمِ افسردگی ہے
کوئی تنکا سہارا کر لیا جائے
نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی
ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی
فریبِ کُل ہے زمیں، اور نمونۂ اضداد
کہ ابتدا ہی گناہ و ثواب سے ہوئی تھی
بس ایک شب کی کہانی نہیں کہ بھُول سکیں
ہر ایک شب ہی مماثل عتاب سے ہوئی تھی
درِ شہی سے درِ گدائی پہ آ گیا ہوں
میں نرم بستر سے چارپائی پہ آ گیا ہوں
بدن کی ساری تمازتیں ماند پڑ رہی ہیں
وہ بے بسی ہے کہ پارسائی پہ آ گیا ہوں
نہیں ہے چہرے کا حال پڑھنے کی خُو کسی میں
سکوت توڑا ہے لب کشائی پہ آ گیا ہوں