خسارہ در خسارہ کر لیا جائے
جنوں کو استعارہ کر لیا جائے
یہ نقطہ بھی قرینِ مصلحت ہے
عداوت کو گوارہ کر لیا جائے
درونِ دل یمِ افسردگی ہے
کوئی تنکا سہارا کر لیا جائے
سرِ آبِ رواں صحرا بچھا کر
سرابوں سے کنارہ کر لیا جائے
بسانی ہے کوئی بستی کہ صحرا
علی اب استخارہ کر لیا جائے
علی مزمل
No comments:
Post a Comment