Showing posts with label نصرت گوالیاری. Show all posts
Showing posts with label نصرت گوالیاری. Show all posts

Monday, 17 July 2023

کیوں فلک آشنا کیا تھا مجھے

 کیوں فلک آشنا کیا تھا مجھے

جب زمیں پر ہی پھینکنا تھا مجھے

بن گیا میں کتاب قصوں کی

اس نے اک لفظ میں کہا تھا مجھے

اب نگینہ ہے کل یہی پتھر

راستے میں پڑا ملا تھا مجھے

Friday, 26 May 2023

چاند کی کشتی سجی ہے اور میں

 چاند کی کشتی سجی ہے اور میں

جھیل ہے اک جل پری ہے اور میں

لو دِیے کی سسکیاں لیتی ہوئی

ٹمٹماتی روشنی ہے اور میں

دھوپ قرنوں کی مسافت سے نڈھال

تیز لمحوں کی ندی ہے اور میں

Tuesday, 9 May 2023

لہو اچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا

 لہو اُچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا

مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا

جہاں سفید گُلابوں کا خواب تھا روشن

وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا

بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں

مِری نگاہ کی حد سے وہ دُور جا نکلا

Monday, 20 December 2021

شفق کا رنگ کا خوشبو کا خواب تھا میں بھی

شفق کا رنگ کا خوشبو کا خواب تھا میں بھی

پرائے ہاتھ میں کوئی گلاب تھا میں بھی

نہ جانے کتنے زمانے مِرے وجود میں تھے

خود اپنی ذات میں اک انقلاب تھا میں بھی

کہانیاں تو بہت تھیں، مگر لکھی نہ گئیں

کسی کے ہاتھ میں سادہ کتاب تھا میں بھی

Sunday, 12 December 2021

نقش پا اس کے راستہ اس کا

نقشِ پا اُس کے راستہ اُس کا

مُڑ کے دیکھا تو کچھ نہ تھا اس کا

مُبتلا کر گیا عذابوں میں

ایک کمزور فیصلہ اس کا

اختیارات کم نہ تھے میرے

میں نے چاہا نہیں برا اس کا