کیوں فلک آشنا کیا تھا مجھے
جب زمیں پر ہی پھینکنا تھا مجھے
بن گیا میں کتاب قصوں کی
اس نے اک لفظ میں کہا تھا مجھے
اب نگینہ ہے کل یہی پتھر
راستے میں پڑا ملا تھا مجھے
کیوں فلک آشنا کیا تھا مجھے
جب زمیں پر ہی پھینکنا تھا مجھے
بن گیا میں کتاب قصوں کی
اس نے اک لفظ میں کہا تھا مجھے
اب نگینہ ہے کل یہی پتھر
راستے میں پڑا ملا تھا مجھے
چاند کی کشتی سجی ہے اور میں
جھیل ہے اک جل پری ہے اور میں
لو دِیے کی سسکیاں لیتی ہوئی
ٹمٹماتی روشنی ہے اور میں
دھوپ قرنوں کی مسافت سے نڈھال
تیز لمحوں کی ندی ہے اور میں
لہو اُچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا
مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا
جہاں سفید گُلابوں کا خواب تھا روشن
وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا
بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں
مِری نگاہ کی حد سے وہ دُور جا نکلا
شفق کا رنگ کا خوشبو کا خواب تھا میں بھی
پرائے ہاتھ میں کوئی گلاب تھا میں بھی
نہ جانے کتنے زمانے مِرے وجود میں تھے
خود اپنی ذات میں اک انقلاب تھا میں بھی
کہانیاں تو بہت تھیں، مگر لکھی نہ گئیں
کسی کے ہاتھ میں سادہ کتاب تھا میں بھی
نقشِ پا اُس کے راستہ اُس کا
مُڑ کے دیکھا تو کچھ نہ تھا اس کا
مُبتلا کر گیا عذابوں میں
ایک کمزور فیصلہ اس کا
اختیارات کم نہ تھے میرے
میں نے چاہا نہیں برا اس کا