شبِ فراق مِری جان اک عذاب میں ہے
تڑپ رہا ہے جگر دل بھی اضطراب میں ہے
ہزاروں طالبِ دیدار ٹُوٹے پڑتے ہیں
اگرچہ جلوۂ جاناں ابھی نقاب میں ہے
نگاہ مِلتے ہیں مستانہ کر دیا ساقی
بتائے کوئی یہ مستی کہاں شراب میں ہے
اگرچہ حُسن میں یکتا ہیں خُلد کی حُوریں
کہاں وہ بات جو اس رشکِ ماہتاب میں ہے
سِتم ہے وصل کی شب بھی وہ بُت نہیں کُھلتا
حجاب کا ہے یہ عالم کہ بس حجاب میں ہے
نہ نیند آتی ہے غم میں نہ چین ہے دل کو
نہ پُوچھ ہاجرِ خستہ کس اضطراب میں ہے
ہاجر دہلوی
No comments:
Post a Comment