چراغِ عشق جلا لوں تو کوئی بات کروں
اندھیرے دل کے مٹا لوں تو کوئی بات کروں
لُٹا دوں راہ میں اس کی میں اپنی سب پُونجی
ذرا سی نیکی کما لوں تو کوئی بات کروں
غُبارِ وقت میں اُلجھی ہے میری راہگزر
سفر کی لاج بچا لوں تو کوئی بات کروں
چراغِ عشق جلا لوں تو کوئی بات کروں
اندھیرے دل کے مٹا لوں تو کوئی بات کروں
لُٹا دوں راہ میں اس کی میں اپنی سب پُونجی
ذرا سی نیکی کما لوں تو کوئی بات کروں
غُبارِ وقت میں اُلجھی ہے میری راہگزر
سفر کی لاج بچا لوں تو کوئی بات کروں
وحشتِ ہجر کا انجام، اُسے لکھ دینا
اے مسیحا! مِرا پیغام، اسے لکھ دینا
میری نظروں میں یہ دنیا ہی خطاوار نہیں
وہ بھی ہے موردِ الزام، اسے لکھ دینا
وہ اگر تم سے کبھی پوچھ لے احوال مِرے
میری یہ حسرتِ ناکام، اسے لکھ دینا
حالات کے ماروں سے یوں موجِ بلا اُلجھے
جیسے کہ چراغوں سے رہ رہ کے ہوا الجھے
کچھ نظمِ چمن بدلے، ہنگامہ بھی ہو برپا
گر شعلہ بیانوں سے بے بس کی صدا الجھے
خوشبو ہو فضاؤں میں خُوشرنگ نظارے ہوں
دامانِ گُلِ تر سے جب بادِ صبا الجھے
ناکامئ حیات کا حاصل کوئی نہیں
حدِ نگاہ لگتا ہے منزل کوئی نہیں
جس طرح میری کشتئ حسرت ہوئی ہے غرق
اس طرح ڈوبتا لبِ ساحل کوئی نہیں
وحشت کی انجمن میں ہوئی تیرگی تمام
پرچھائیوں کے درد کا حاصل کوئی نہیں
غبار و سنگ سے، دیوار و در سے رشتہ ہے
نہ جانے کیسا تری رہگزر سے رشتہ ہے
فلک سے رشتہ ہے شمس و قمرسے رشتہ ہے
ہمارے شوق کا علم و ہنر سے رشتہ ہے
کوئی جو آئے تو آئے بھی کیوں مِری جانب
کسی کا کون سا سوکھے شجر سے رشتہ ہے