Showing posts with label ریشما زیدی. Show all posts
Showing posts with label ریشما زیدی. Show all posts

Friday, 16 September 2022

چراغ عشق جلا لوں تو کوئی بات کروں

 چراغِ عشق جلا لوں تو کوئی بات کروں 

اندھیرے دل کے مٹا لوں تو کوئی بات کروں 

لُٹا دوں راہ میں اس کی میں اپنی سب پُونجی 

ذرا سی نیکی کما لوں تو کوئی بات کروں 

غُبارِ وقت میں اُلجھی ہے میری راہگزر 

سفر کی لاج بچا لوں تو کوئی بات کروں 

Monday, 22 August 2022

وحشت ہجر کا انجام اسے لکھ دینا

وحشتِ ہجر کا انجام، اُسے لکھ دینا

اے مسیحا! مِرا پیغام، اسے لکھ دینا

میری نظروں میں یہ دنیا ہی خطا‌وار نہیں

وہ بھی ہے موردِ الزام، اسے لکھ دینا

وہ اگر تم سے کبھی پوچھ لے احوال مِرے

میری یہ حسرتِ ناکام، اسے لکھ دینا

Saturday, 20 August 2022

حالات کے ماروں سے یوں موج بلا الجھے

 حالات کے ماروں سے یوں موجِ بلا اُلجھے

جیسے کہ چراغوں سے رہ رہ کے ہوا الجھے

کچھ نظمِ چمن بدلے، ہنگامہ بھی ہو برپا

گر شعلہ بیانوں سے بے بس کی صدا الجھے

خوشبو ہو فضاؤں میں خُوشرنگ نظارے ہوں

دامانِ گُلِ تر سے جب بادِ صبا الجھے

Tuesday, 15 March 2022

ناکامی حیات کا حاصل کوئی نہیں

ناکامئ حیات کا حاصل کوئی نہیں

حدِ نگاہ لگتا ہے منزل کوئی نہیں

جس طرح میری کشتئ حسرت ہوئی ہے غرق

اس طرح ڈوبتا لبِ ساحل کوئی نہیں

وحشت کی انجمن میں ہوئی تیرگی تمام

پرچھائیوں کے درد کا حاصل کوئی نہیں

Sunday, 20 February 2022

غبار و سنگ سے دیوار و در سے رشتہ ہے

 غبار و سنگ سے، دیوار و در سے رشتہ ہے

نہ جانے کیسا تری رہگزر سے رشتہ ہے

فلک سے رشتہ ہے شمس و قمرسے رشتہ ہے

ہمارے شوق کا علم و ہنر سے رشتہ ہے

کوئی جو آئے تو آئے بھی کیوں مِری جانب

کسی کا کون سا سوکھے شجر سے رشتہ ہے