عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب دکھایا رنگ اپنا کفر کے بازار نے
ہر فریب و مکر پہ حملہ کیا کردار نے
کر دیا پامال بیعت کے وفورِ شوق کو
بیڑیوں نے، طوق نے، زنجیر کی جھنکار نے
اس عمارت کی نہ ہو گی اب کوئی دیوار کج
کر دیا تعمیر ایسا ہاشمی معمار نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب دکھایا رنگ اپنا کفر کے بازار نے
ہر فریب و مکر پہ حملہ کیا کردار نے
کر دیا پامال بیعت کے وفورِ شوق کو
بیڑیوں نے، طوق نے، زنجیر کی جھنکار نے
اس عمارت کی نہ ہو گی اب کوئی دیوار کج
کر دیا تعمیر ایسا ہاشمی معمار نے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
انکار کی سبیل کر، اقرار لے کے آ
اپنی زبانِ گُنگ پہ گفتار لے کے آ
طٰہٰ کا جس میں رنگ ہو، خوشبوئے ھل اتا
والیل کے جمال سا معیار لے کے آ
جس میں خریدے جا سکیں دُر ہائے مصطفٰیؐ
سودائے عشق کا وہی بازار لے کے آ