Showing posts with label ذوالفقار نقوی. Show all posts
Showing posts with label ذوالفقار نقوی. Show all posts

Monday, 8 July 2024

جب دکھایا رنگ اپنا کفر کے بازار نے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب دکھایا رنگ اپنا کفر کے بازار نے

ہر فریب و مکر پہ حملہ کیا کردار نے

کر دیا پامال بیعت کے وفورِ شوق کو

بیڑیوں نے، طوق نے، زنجیر کی جھنکار نے

اس عمارت کی نہ ہو گی اب کوئی دیوار کج

کر دیا تعمیر ایسا ہاشمی معمار نے

Tuesday, 28 December 2021

انکار کی سبیل کر اقرار لے کے آ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


انکار کی سبیل کر، اقرار لے کے آ

اپنی زبانِ گُنگ پہ گفتار لے کے آ

طٰہٰ کا جس میں رنگ ہو، خوشبوئے ھل اتا

والیل کے جمال سا معیار لے کے آ

جس میں خریدے جا سکیں دُر ہائے مصطفٰیؐ

سودائے عشق کا وہی بازار لے کے آ

Saturday, 17 January 2015

لے لے سکون قلب بھی جو چاہے دے سزا مجھے

لے لے سکون قلب بھی، جو چاہے دے سزا مجھے
لیکن فصیلِ شہر سے اپنی نہ کر جدا مجھے
بجلی کی زد میں آشیاں، نوکِ سناں پہ ہے جگر
اب اور منتظر نہ رکھ، منزل مِری دکھا مجھے
دستک تھا دے رہا کوئی، دہلیز پر امنگ کی
میں ہی اسیرِ ذات تھا، خود ہی نہ در کھلا مجھے

چل نہ پائے رہگزر کے ساتھ ساتھ

چل نہ پائے رہگزر کے ساتھ ساتھ
منزلوں کے راہبر کے ساتھ ساتھ
وہ کسی اجڑے چمن کی یاد تھی
پتے پتے اور شجر کے ساتھ ساتھ
لحظہ لحظہ میں اسی آنگن میں تھا
قریہ قریہ اس نظر کے ساتھ ساتھ

Saturday, 3 January 2015

بال بال دنیا پر اس کا ہی اجارہ ہے

بال بال دنیا پر اس کا ہی اجارہ ہے
وقت خالی ہاتھوں سے ہم نے بهی گزارا ہے
کُو بہ کُو برستا ہے،۔ یم بہ یم ابلتا ہے
خونِ آدمیت سے نقشِ لا سنوارا ہے
لے چلو چراغوں کو کر کے خون سے روشن
دشت کی سیاہی نے ہم کو بھی پکارا ہے

بے لوث اداؤں کی ہوا کیوں نہیں آتی

بے لوث اداؤں کی ہوا کیوں نہیں آتی
جو قلب سے اٹھتی تھی صدا کیوں نہیں آتی
پیغامِ خودی حرف کی جاگیر تھا، لیکن
اشعار سے اب ویسی ندا کیوں نہیں آتی
تن پر تو سجا رکھا ہے ملبوسِ شہانہ
آنکھوں میں مگر تیری حیا کیوں نہیں آتی

Monday, 8 December 2014

کوئی تھا چاند یا پھر چاندنی بردار دیکھا ہے

کوئی تھا چاند، یا پھر چاندنی بردار دیکھا ہے
نظر کو سامنے جس کے بہت لاچار دیکھا ہے
کبھی جو سیر کی ، اپنے ہی اندر ڈوب کر میں نے
تھکن سے چور اک سایہ پسِ دیوار دیکھا ہے
مسلسل جھوجھتا رہتا ہوں میں امواجِ دریا سے
ہمیشہ خود کو اِس جانب اسے اُس پار دیکھا ہے

نرغۂ غیر میں تلوار اٹھا لی اس نے

نرغۂ غیر میں تلوار اٹھا لی اس نے
میرا سر مانگ لیا بن کے سوالی اس نے
آخرش ترکِ تعلق کا بھرم رکھنے کو
ایک دیوار پسِ دار بنا لی اس نے
عازمِ راہِ محبت کی تواضع کرنے
ساغرِ جور کی پندار اٹھا لی اس نے

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے

وقت کے پاس کہاں سارے حوالے ہوں گے
زیبِ قرطاس فقط یاس کے ہالے ہوں گے
کھوجتا کیوں ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے
آ، چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے
دشت میں جا کے ذرا دیکھ تو آئے کوئی
ذرے ذرے نے مِرے اشک سنبھالے ہوں گے

میرے ہونے سے نہ ہونے کی خبر آتی ہے

میرے ہونے سے نہ ہونے کی خبر آتی ہے
ہر نوا لوٹ کے با دیدۂ تر آتی ہے
شعلگی، دستِ کرم اب کے گلوں کا ٹھہری
ہر کلی قصۂ بے داد نظر آتی ہے
خاک میں خاک یہاں رختِ سفر باندھوں گا
ریگِ صحرا ہے اڑی، اور اِدھر آتی ہے

بے چینی کے لمحے سانسیں پتھر کی

بے چینی کے لمحے، سانسیں پتھر کی
صدیوں جیسے دن ہیں، راتیں پتھر کی
پتھرائی سی آنکھیں، چہرے پتھر کے
ہم نے دیکھیں کتنی شکلیں پتھر کی
گورے ہوں یا کالے، سر پر برسے ہیں
پرکھی ہم نے ساری ذاتیں پتھر کی

پرانے رنگ میں اشک غم تازہ ملاتا ہوں

پرانے رنگ میں اشکِ غمِ تازہ ملاتا ہوں
در و دیوار پر کچھ عکسِ نادیدہ سجاتا ہوں
مِرے اس شوق سے دریا، کنارے، سب شناسا ہیں
جہاں طوفاں ہو موجوں کا، وہاں لنگر اٹھاتا ہوں
مجھے صحرا نوردی راس آتی جا رہی ہے اب
خراباتِ چمن میں لالہ و سوسن اگاتا ہوں