Showing posts with label شعیب کیانی. Show all posts
Showing posts with label شعیب کیانی. Show all posts

Saturday, 14 February 2026

افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

 افیمی سو رہا ہے


افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

سو ہرن کو شیر کھا جائے

عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں

کوئی بکری کسی چیتے کو 

تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے

ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا 

Wednesday, 14 January 2026

بے رحم لوگوں کو تم چاہے جو بھی کہو بھیڑیا مت کہو

 بھیڑیے کا مقدمہ


اشرف المخلوقات آدمی

کیا کبھی بھیڑیوں نے ہوس کا شکم

اپنے ہی کمسنوں کے بدن سے بھرا؟

کیا کبھی بھیڑیے اپنی مادہ کی مرضی کو جانے بنا

اس کے نزدیک جاتے دکھائی دئیے؟

کوئی ایسی گواہی ملی 

Saturday, 7 June 2025

کہیں یہ وہ بھیڑ تو نہیں ہے

 بھیڑ


کہیں یہ وہ بھیڑ تو نہیں ہے

کہ جو درختوں میں زندہ نبیوں کو کاٹتی تھی

جو وقتِ تصلیبِ ابن مریمؑ تماش بیں تھی

جو آگ میں پھینکے جانے والے

خلیلِ یزداں پہ ہنس رہی تھی

جو ثور کی غار تک نبیؐ کو 

Monday, 10 June 2024

ہوتے نہیں ہیں درہم و دینار میرے پاس

ہوتے نہیں ہیں درہم و دینار میرے پاس

دو چار بیٹھتے ہیں مگر یار میرے پاس

میں وہ بنا چکا ہوں جسے پوجتے ہیں لوگ

اس سے بڑا ہو کیا بھلا شہکار میرے پاس

واقف ہیں سنگ و خشت نظریات سے مرے

اگتی نہیں ہے کوئی بھی دیوار میرے پاس

Wednesday, 8 May 2024

بنائی میں نے اپنا ذہن ادھیڑا

 بُنائی


میں نے اپنا ذہن ادھیڑا

ایک خیال کا لمبا سُوتر سیدھا کر کے

قوسِ قزح کے رنگ لگائے

اور لپیٹا

اس کے جسم کا ناپ لیا

امیدوں کی عینک پہنی

Friday, 24 March 2023

انہیں جہنم سے مت ڈرائیں

انہیں جہنم سے مت ڈرائیں


 سڑک کنارے، سٹیشنوں پر

پرانے کوٹھے کی بالکونی میں

ہوٹلوں کی لابیوں میں

بڑے بزرگوں کے مقبروں

شب گئے جو کھڑے ہوئے ہیں

Wednesday, 22 March 2023

میری مردانگی کو گوارا نہیں

 مردانہ کمزوری


کوئی اپنا مَرا 

میرا اپنا مَرا

میرے آنگن میں ماتم کی صف بچھ گئی

عورتیں بین کرتی رہیں

بچے روتے رہے

Friday, 24 February 2023

تمہارے لب صدی کا سب سے دلآویز فتنہ ہیں

 تمہارے لب

صدی کا سب سے دلآویز فتنہ ہیں

تمہاری سانولی گردن

سوا دو سو برس سے بھی پرانی

شراب کی بوتل کے جیسی بیش قیمت ہے

تمہاری نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھیں

Wednesday, 22 February 2023

خود کشی کر رہے ہو

 خود کشی کر رہے ہو؟

کرو

نوٹ بھی لکھ کے جاؤ گئے؟

وہ بھی لکھو

ہاں مگر اک بڑا مسئلہ ہے 

کہ جلدی میں لکھے ہوئے نوٹ میں 

Saturday, 31 December 2022

در کو دیوار کرنے والی تھی

 در کو دیوار کرنے والی تھی

جب وہ انکار کرنے والی تھی

شاہزادی کو تاج لے بیٹھا

ورنہ اقرار کرنے والی تھی

میں بتاتا ہوں، ہم کہاں پر تھے

تُو مجھے پیار کرنے والی تھی

Saturday, 12 March 2022

بم نہیں سوچتا بم نہیں دیکھتا بم نہیں پوچھتا

 بم


کوئی کتنی مشقت سے پیدا ہوا

ایک قطرے کو گبرو جواں کرتے کرتے 

کسی کے بدن کا لہو لگ گیا

یا کوئی نیزہ قامت کماں بن گیا

بم نہیں سوچتا

Friday, 31 December 2021

بنائی نظم بنی پھر اس نظم کے حصے جوڑے

 بُنائی


میں نے اپنا ذہن اُدھیڑا

ایک خیال کا لمبا سُوتر سیدھا کر کے

قوسِ قزح کے رنگ لگائے

اور لپیٹا

اس کے جسم کا ناپ لیا

Friday, 19 March 2021

وباؤں کے دن ہیں مرے خوشنما

 قرنطینہ میں ایک خواہش


وباؤں کے دن ہیں مِرے خوشنما

زندگی معتکف ہے

ہر اک آدمی دوسرے آدمی سے ڈرا جا رہا ہے

جو ڈرتا نہیں ہے، مَرا جا رہا ہے

عجب نفسا نفسی، عجب کشمکش ہے

Thursday, 18 March 2021

آوارگی میں چین کے لمحات مسترد

 آوارگی میں چین کے لمحات مسترد

یعنی کہ دِینِ عشق میں بدعات مسترد

دی جا رہی تھی چھین کے دُوجے فقیر سے

کر دی تِرے فقیر نے خیرات مسترد

جاہل کے خواب پر بھی یقیں کر رہے ہیں لوگ

عالم کے ہو رہے ہیں مقالات مسترد

Wednesday, 17 March 2021

اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو

ٹھنڈے ہاتھ


 اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو

اپنے ٹھنڈے ہاتھوں میں

کب سے لے کر بیٹھا ہوں

سانسوں سے گرماتا ہوں

تم سے ہی تو سیکھا تھا

پچھلے سال ہی سردی میں

Monday, 15 March 2021

صرف خود کو خدا نہیں کہتا

 صرف خود کو خدا نہیں کہتا

مولوی اور کیا نہیں کہتا

آئینہ دیکھ کر نکلتا ہوں

سو کسی کو برا نہیں کہتا

ہے اندھیرا بھرا ہوا اس میں

میں خلا کو خلا نہیں کہتا

بے حیا؛ ہمیں تو ہیں وہ جو طے کریں گے

 بے حیا


ہمِیں تو ہیں وہ

جو طے کریں گے

کہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہے

ہمِیں تو ہیں وہ

جو طے کریں گے