افیمی سو رہا ہے
افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے
سو ہرن کو شیر کھا جائے
عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں
کوئی بکری کسی چیتے کو
تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے
ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا
افیمی سو رہا ہے
افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے
سو ہرن کو شیر کھا جائے
عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں
کوئی بکری کسی چیتے کو
تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے
ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا
بھیڑیے کا مقدمہ
اشرف المخلوقات آدمی
کیا کبھی بھیڑیوں نے ہوس کا شکم
اپنے ہی کمسنوں کے بدن سے بھرا؟
کیا کبھی بھیڑیے اپنی مادہ کی مرضی کو جانے بنا
اس کے نزدیک جاتے دکھائی دئیے؟
کوئی ایسی گواہی ملی
بھیڑ
کہیں یہ وہ بھیڑ تو نہیں ہے
کہ جو درختوں میں زندہ نبیوں کو کاٹتی تھی
جو وقتِ تصلیبِ ابن مریمؑ تماش بیں تھی
جو آگ میں پھینکے جانے والے
خلیلِ یزداں پہ ہنس رہی تھی
جو ثور کی غار تک نبیؐ کو
ہوتے نہیں ہیں درہم و دینار میرے پاس
دو چار بیٹھتے ہیں مگر یار میرے پاس
میں وہ بنا چکا ہوں جسے پوجتے ہیں لوگ
اس سے بڑا ہو کیا بھلا شہکار میرے پاس
واقف ہیں سنگ و خشت نظریات سے مرے
اگتی نہیں ہے کوئی بھی دیوار میرے پاس
بُنائی
میں نے اپنا ذہن ادھیڑا
ایک خیال کا لمبا سُوتر سیدھا کر کے
قوسِ قزح کے رنگ لگائے
اور لپیٹا
اس کے جسم کا ناپ لیا
امیدوں کی عینک پہنی
انہیں جہنم سے مت ڈرائیں
سڑک کنارے، سٹیشنوں پر
پرانے کوٹھے کی بالکونی میں
ہوٹلوں کی لابیوں میں
بڑے بزرگوں کے مقبروں
شب گئے جو کھڑے ہوئے ہیں
مردانہ کمزوری
کوئی اپنا مَرا
میرا اپنا مَرا
میرے آنگن میں ماتم کی صف بچھ گئی
عورتیں بین کرتی رہیں
بچے روتے رہے
تمہارے لب
صدی کا سب سے دلآویز فتنہ ہیں
تمہاری سانولی گردن
سوا دو سو برس سے بھی پرانی
شراب کی بوتل کے جیسی بیش قیمت ہے
تمہاری نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھیں
خود کشی کر رہے ہو؟
کرو
نوٹ بھی لکھ کے جاؤ گئے؟
وہ بھی لکھو
ہاں مگر اک بڑا مسئلہ ہے
کہ جلدی میں لکھے ہوئے نوٹ میں
در کو دیوار کرنے والی تھی
جب وہ انکار کرنے والی تھی
شاہزادی کو تاج لے بیٹھا
ورنہ اقرار کرنے والی تھی
میں بتاتا ہوں، ہم کہاں پر تھے
تُو مجھے پیار کرنے والی تھی
بم
کوئی کتنی مشقت سے پیدا ہوا
ایک قطرے کو گبرو جواں کرتے کرتے
کسی کے بدن کا لہو لگ گیا
یا کوئی نیزہ قامت کماں بن گیا
بم نہیں سوچتا
بُنائی
میں نے اپنا ذہن اُدھیڑا
ایک خیال کا لمبا سُوتر سیدھا کر کے
قوسِ قزح کے رنگ لگائے
اور لپیٹا
اس کے جسم کا ناپ لیا
قرنطینہ میں ایک خواہش
وباؤں کے دن ہیں مِرے خوشنما
زندگی معتکف ہے
ہر اک آدمی دوسرے آدمی سے ڈرا جا رہا ہے
جو ڈرتا نہیں ہے، مَرا جا رہا ہے
عجب نفسا نفسی، عجب کشمکش ہے
آوارگی میں چین کے لمحات مسترد
یعنی کہ دِینِ عشق میں بدعات مسترد
دی جا رہی تھی چھین کے دُوجے فقیر سے
کر دی تِرے فقیر نے خیرات مسترد
جاہل کے خواب پر بھی یقیں کر رہے ہیں لوگ
عالم کے ہو رہے ہیں مقالات مسترد
ٹھنڈے ہاتھ
اپنے ٹھنڈے ہاتھوں کو
اپنے ٹھنڈے ہاتھوں میں
کب سے لے کر بیٹھا ہوں
سانسوں سے گرماتا ہوں
تم سے ہی تو سیکھا تھا
پچھلے سال ہی سردی میں
صرف خود کو خدا نہیں کہتا
مولوی اور کیا نہیں کہتا
آئینہ دیکھ کر نکلتا ہوں
سو کسی کو برا نہیں کہتا
ہے اندھیرا بھرا ہوا اس میں
میں خلا کو خلا نہیں کہتا
بے حیا
ہمِیں تو ہیں وہ
جو طے کریں گے
کہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہے
ہمِیں تو ہیں وہ
جو طے کریں گے