مسائل میں گِھرا ہے اک زمانہ، پھر کبھی جاناں
تمہارے وصل کا موسم سہانا، پھر کبھی جاناں
ابھی انسانیت کی سسکیاں، نوکِ قلم پر ہیں
لب و رُخسار و کاکُل کا فسانہ، پھر کبھی جاناں
مجھے افلاس، غُربت، بُھوک پر فی الحال لکھنا ہے
تِرے غم پہ بھی لکھوں گا کہا نا، پھر کبھی جاناں