Showing posts with label رفیع تبسم. Show all posts
Showing posts with label رفیع تبسم. Show all posts

Wednesday, 28 February 2024

مسائل میں گھرا ہے اک زمانہ پھر کبھی جاناں

 مسائل میں گِھرا ہے اک زمانہ، پھر کبھی جاناں

تمہارے وصل کا موسم سہانا، پھر کبھی جاناں

ابھی انسانیت کی سسکیاں، نوکِ قلم پر ہیں

لب و رُخسار و کاکُل کا فسانہ، پھر کبھی جاناں

مجھے افلاس، غُربت، بُھوک پر فی الحال لکھنا ہے

تِرے غم پہ بھی لکھوں گا کہا نا، پھر کبھی جاناں

Wednesday, 21 February 2024

بکھر گیا ہے تو خود کو سنبھال وقت نکال

 بکھر گیا ہے تو خود کو سنبھال، وقت نکال

شکست بُھول کے سوچیں اُجال، وقت نکال

نہیں ہے وقت حساب و کتاب کا باقی

سو خُود کو معافی تلافی میں ڈھال، وقت نکال

سفر پہ چلنا ہے تنہا، سو تنہا رہنا سیکھ

اب اپنا بوجھ کسی پر نہ ڈال، وقت نکال

Friday, 2 February 2024

اشکوں نے لفظ ہجر کیا لکھا بیاض پر

 اشکوں نے لفظ ہجر کیا لکھا بیاض پر

غزلوں نے اس کو جُھوم کے گھیرا بیاض پر

چہرے پہ تیرے تِل نہیں، دل شاعروں کا ہے

جیسے خیام کو کوئی مصرعہ بیاض پر

یک لخت کتنے پُھول اذیت کے کِھل اُٹھے

دل تیرے ہجر میں بڑا تڑپا بیاض پر

Thursday, 1 February 2024

پہلے وعدوں پہ اپنے غور تو کر

 اک عنایت ذرا سی اور تو کر

پہلے وعدوں پہ اپنے غور تو کر

ظرف میرا بھی تجھ پہ کُھل جائے

حسبِ توفیق مجھ پہ جور تو کر

ساتھ دُنیا بھی تجھ کو لے کے چلے

خُود کو حسبِ ہوائے دور تو کر

Saturday, 10 April 2021

اک اسی بات کا غم مجھ کو سدا رہتا ہے

 اک اسی بات کا غم مجھ کو سدا رہتا ہے

میرا ہمزاد بھی کیوں مجھ سے جدا رہتا ہے

پھر بھی اندر سے نجاست نہیں جاتی ساری

دل کے اندر بھی سنا ہے کہ خدا رہتا ہے

خود کو ڈھونڈا ہے بہت ، ذات سے باہر آ کر

وہ کوئی اور ہے اندر جو چھپا رہتا ہے