اک اسی بات کا غم مجھ کو سدا رہتا ہے
میرا ہمزاد بھی کیوں مجھ سے جدا رہتا ہے
پھر بھی اندر سے نجاست نہیں جاتی ساری
دل کے اندر بھی سنا ہے کہ خدا رہتا ہے
خود کو ڈھونڈا ہے بہت ، ذات سے باہر آ کر
وہ کوئی اور ہے اندر جو چھپا رہتا ہے
میرے مولا میری لاٹھی کو سلامت رکھنا
میرا بیٹا میری بیساکھی بنا رہتا ہے
میری ہر سانس امانت ہے تبسم جس کی
جانے کس بات پہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے
رفیع تبسم
No comments:
Post a Comment