Saturday, 10 April 2021

اک اسی بات کا غم مجھ کو سدا رہتا ہے

 اک اسی بات کا غم مجھ کو سدا رہتا ہے

میرا ہمزاد بھی کیوں مجھ سے جدا رہتا ہے

پھر بھی اندر سے نجاست نہیں جاتی ساری

دل کے اندر بھی سنا ہے کہ خدا رہتا ہے

خود کو ڈھونڈا ہے بہت ، ذات سے باہر آ کر

وہ کوئی اور ہے اندر جو چھپا رہتا ہے

میرے مولا میری لاٹھی کو سلامت رکھنا

میرا بیٹا میری بیساکھی بنا رہتا ہے

میری ہر سانس امانت ہے تبسم جس کی

جانے کس بات پہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے


رفیع تبسم

No comments:

Post a Comment