Showing posts with label کاشف شکیل. Show all posts
Showing posts with label کاشف شکیل. Show all posts

Saturday, 5 April 2025

گزر رہی ہے جدائی جو تجھ پہ شاق تو دیکھ

 گزر رہی ہے جدائی جو تجھ پہ شاق تو دیکھ

کبھی کبھی تُو ورائے حد فراق تو دیکھ

مِری طلب نہ سہی، میرا اشتیاق تو دیکھ

عبارتوں سے پرے آ، ذرا سیاق تو دیکھ

جدا ہیں جسم ہمارے، جُدا ہیں رنگ و روش

تُو ان کو چھوڑ کے رُوحوں کا التصاق تو دیکھ

Thursday, 23 May 2024

زندگی سرد ہو گئی ہے کیا

 زندگی سرد ہو گئی ہے کیا

موت ہمدرد ہو گئی ہے کیا

اک ذرا اس کی سرد مہری سے

روح تک سرد ہوگئی ہے کیا

سبز و شاداب تھی مری دنیا

دیکھیے زرد ہو گئی ہے کیا

Sunday, 19 May 2024

دل مبتلائے رنج ہے ممکن ہے یوں علاج

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل مبتلائے رنج ہے ممکن ہے یوں علاج 

کر دیجیے عطا مجھے خاک مدینہ آج  

چبھنے لگے ہیں مجھ کو یہ دنیا کے تخت و تاج

جب سے ہوا ہے دل پہ میرے مصطفیٰؐ کا راج

میرا امام صاحبِ کوثر ہی ہے فقط

محشر میں اے خدا مِری رکھ لیجیے گا لاج

Saturday, 18 May 2024

نعت نبی کی بزم میں خوشبو بکھیر کر

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نعت نبیؐ کی بزم میں خوشبو بکھیر کر

باطل توجّہات کو پل بھر میں زیر کر

ناموسِ مصطفیٰؐ پہ جو آئے ذرا بھی آنچ

جان و جہاں لٹانے میں بالکل نہ دیر کر

کاغذ پہ میں نے احمدِؐ مرسل جہاں لکھا

ہالہ بنا دیا ہے فرشتوں نے گھیر کر