گزر رہی ہے جدائی جو تجھ پہ شاق تو دیکھ
کبھی کبھی تُو ورائے حد فراق تو دیکھ
مِری طلب نہ سہی، میرا اشتیاق تو دیکھ
عبارتوں سے پرے آ، ذرا سیاق تو دیکھ
جدا ہیں جسم ہمارے، جُدا ہیں رنگ و روش
تُو ان کو چھوڑ کے رُوحوں کا التصاق تو دیکھ
گزر رہی ہے جدائی جو تجھ پہ شاق تو دیکھ
کبھی کبھی تُو ورائے حد فراق تو دیکھ
مِری طلب نہ سہی، میرا اشتیاق تو دیکھ
عبارتوں سے پرے آ، ذرا سیاق تو دیکھ
جدا ہیں جسم ہمارے، جُدا ہیں رنگ و روش
تُو ان کو چھوڑ کے رُوحوں کا التصاق تو دیکھ
زندگی سرد ہو گئی ہے کیا
موت ہمدرد ہو گئی ہے کیا
اک ذرا اس کی سرد مہری سے
روح تک سرد ہوگئی ہے کیا
سبز و شاداب تھی مری دنیا
دیکھیے زرد ہو گئی ہے کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل مبتلائے رنج ہے ممکن ہے یوں علاج
کر دیجیے عطا مجھے خاک مدینہ آج
چبھنے لگے ہیں مجھ کو یہ دنیا کے تخت و تاج
جب سے ہوا ہے دل پہ میرے مصطفیٰؐ کا راج
میرا امام صاحبِ کوثر ہی ہے فقط
محشر میں اے خدا مِری رکھ لیجیے گا لاج
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت نبیؐ کی بزم میں خوشبو بکھیر کر
باطل توجّہات کو پل بھر میں زیر کر
ناموسِ مصطفیٰؐ پہ جو آئے ذرا بھی آنچ
جان و جہاں لٹانے میں بالکل نہ دیر کر
کاغذ پہ میں نے احمدِؐ مرسل جہاں لکھا
ہالہ بنا دیا ہے فرشتوں نے گھیر کر