Wednesday, 3 June 2026

سو اس لیے بھی مطمئن اپنا ضمیر ہے

 سو اس لیے بھی مطمئن اپنا ضمیر ہے

ہاتھوں پہ اس کے نام کی میرے لکیر ہے

کیا خوب ہے تماشا یہ قسمت کا دیکھیے

کل تک جو بادشاہ تھا، گلی میں فقیر ہے

کھودا کنواں ہے اپنی حویلی کے درمیاں

دیکھو امیرِ شہر بھی کتنا شریر ہے

ہوتا ہے جس کے گھر میں دوپٹوں کا روندنا

وہ ہی تو میرے گاؤں میں اک اصلی پیر ہے

کیسے کرے گا شعر میں سچائیاں رقم

ایک بادشاہ کی جیل میں ذرہ اسیر ہے


ذرہ حیدرآبادی

عبدالرحمان

No comments:

Post a Comment