سو اس لیے بھی مطمئن اپنا ضمیر ہے
ہاتھوں پہ اس کے نام کی میرے لکیر ہے
کیا خوب ہے تماشا یہ قسمت کا دیکھیے
کل تک جو بادشاہ تھا، گلی میں فقیر ہے
کھودا کنواں ہے اپنی حویلی کے درمیاں
دیکھو امیرِ شہر بھی کتنا شریر ہے
ہوتا ہے جس کے گھر میں دوپٹوں کا روندنا
وہ ہی تو میرے گاؤں میں اک اصلی پیر ہے
کیسے کرے گا شعر میں سچائیاں رقم
ایک بادشاہ کی جیل میں ذرہ اسیر ہے
ذرہ حیدرآبادی
عبدالرحمان
No comments:
Post a Comment