حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے
عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے
کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو
سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے
کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج
امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے
وقفِ انساں ہیں آسماں میں یا رب! اگر
کمند ڈالو تو ستارے بھی نکھرتے ہوں گے
دشمنی کی آگ اور سوگوارِ میّت! جمیل
کئی نسلوں سے یہاں لوگ، مرتے ہوں گے
جمیل احمد
No comments:
Post a Comment