Saturday, 20 June 2026

حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے

 حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے

عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے

کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو

سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے

کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج

امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے

وقفِ انساں ہیں آسماں میں یا رب! اگر

کمند ڈالو تو ستارے بھی نکھرتے ہوں گے

دشمنی کی آگ اور سوگوارِ میّت! جمیل

کئی نسلوں سے یہاں لوگ، مرتے ہوں گے


جمیل احمد

No comments:

Post a Comment