Friday, 19 June 2026

تو میری عادتوں میں ذرا بھی نہ ڈھل سکا

تُو میری عادتوں میں ذرا بھی نہ ڈھل سکا

پھر بھی چلوں گا ساتھ  میں جتنا بھی چل سکا

تُو زندگی میں سامنے آئے گا جب کبھی

میں راستہ بدل لوں گا گر میں بدل سکا

دنیا میں کامیابی سمیٹوں گا ایک دن 

جانی تِرے خیال سے گر میں نکل سکا

اک دن چلاؤں گا اسے میں آسمان پر

جو دل کا کاروبار زمیں پر نہ چل سکا

اس بار بے وفائی کی ایسی ہوا چلی

جانی سنبھل سکا تُو نہ میں ہی سنبھل سکا

میں ہوں چراغِ  شامِ تمنا کہ جس کو جون

زورِ ہوا بھی راس تھا پھر بھی نہ جل سکا


جون ثانی

No comments:

Post a Comment