کر گئے اتنا نکما تِرے احساں ہم کو
فائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کو
مے کشی سے ہمیں یہ فائدہ ہے اے زاہد
لگنے لگتے ہیں سبھی کام ہی آساں ہم کو
کون نقصان اٹھاتا ہے اصولوں کے لیے
دین و ایمان سے بڑھ کر ہیں دل و جاں ہم کو
آپ پل باندھ رہے ہیں وہی تعریفوں کے
زندگی بھر جو سمجھتے رہے ناداں ہم کو
خود بخود ڈھونڈے گی رستہ کوئی رحمت اس کی
راس آ جائے گی خود گردش دوراں ہم کو
دل میں ہے درد تِرا، فکر تِری، پیار تِرا
کیسے لگتا نہ یہ وِیرانہ گُلستاں ہم کو
درشن دیال پرواز
No comments:
Post a Comment