اک نئی شان سے پھر جشنِ بہاراں ہونا
گُلستاں! تجھ کو مبارک ہو بیاباں ہونا
پھُول کے رُوپ میں کانٹوں نے ہمیں پالا ہے
ہم کو آیا نہ کبھی غم سے پریشاں ہونا
میرے اشعار نے پگھلا دیں کسی کی آنکھیں
ایک بُت کو بھی میسر ہوا انساں ہونا
اک نئی شان سے پھر جشنِ بہاراں ہونا
گُلستاں! تجھ کو مبارک ہو بیاباں ہونا
پھُول کے رُوپ میں کانٹوں نے ہمیں پالا ہے
ہم کو آیا نہ کبھی غم سے پریشاں ہونا
میرے اشعار نے پگھلا دیں کسی کی آنکھیں
ایک بُت کو بھی میسر ہوا انساں ہونا
دلوں سے ترکِ تعلق کا ڈر نکل جائے
تِرا مزاج ذرا سا اگر بدل جائے
سبھی کے سامنے ہے اک ہجوم رشتوں کا
وہ کامراں ہے جو اس بھیڑ سے نکل جائے
اس ارتکابِ تمنا پہ کیا سزا دو گے؟
تمہارے قدموں پہ کوئی اگر مچل جائے
چاہتا ہوں کہ مِرا دردِ جگر اور بڑھے
تیرگیٔ شب غم تا بہ سحر اور بڑھے
دُور ہے مجھ سے ابھی دامنِ صد رنگ ان کا
کارواں اشکوں کا اے دیدۂ تر اور بڑھے
یوں تو تنہا ہی چلا جاؤں گا میں منزل تک
تم اگر ساتھ چلو، عزمِ سفر اور بڑھے
یہ دل مِرا، مِرے پہلو سے عنقریب چلا
شکست کھا کے غموں سے مِرا رقیب چلا
جب ان کی بزم سے اُٹھ کر کوئی غریب چلا
فضائیں چیخ اُٹھیں؛، حُسن کا نقیب چلا
وہ پھر سمیٹ کے بانہوں میں کائنات کا رنگ
گلے صُراحی سے مِل کر مِرا حبیب چلا
خواب تو دیکھ چکے یار! سہانے کتنے
اب یہ بتلا کہ تِرے غم ہیں اٹھانے کتنے
پھول کِھلنے بھی نہ پائے تھے کہ چپکے چپکے
گشت کرنے لگے خوشبو کے دِوانے کتنے
تجھ کو معلوم نہیں ایک تِرے دل کے سوا
تیرے جوگی ہوئے دنیا میں ٹھکانے کتنے