Showing posts with label ہوش رامپوری. Show all posts
Showing posts with label ہوش رامپوری. Show all posts

Monday, 29 April 2024

اک نئی شان سے پھر جشن بہاراں ہونا

 اک نئی شان سے پھر جشنِ بہاراں ہونا

گُلستاں! تجھ کو مبارک ہو بیاباں ہونا

پھُول کے رُوپ میں کانٹوں نے ہمیں پالا ہے

ہم کو آیا نہ کبھی غم سے پریشاں ہونا

میرے اشعار نے پگھلا دیں کسی کی آنکھیں

ایک بُت کو بھی میسر ہوا انساں ہونا

Thursday, 1 February 2024

دلوں سے ترک تعلق کا ڈر نکل جائے

 دلوں سے ترکِ تعلق کا ڈر نکل جائے

تِرا مزاج ذرا سا اگر بدل جائے

سبھی کے سامنے ہے اک ہجوم رشتوں کا

وہ کامراں ہے جو اس بھیڑ سے نکل جائے

اس ارتکابِ تمنا پہ کیا سزا دو گے؟

تمہارے قدموں پہ کوئی اگر مچل جائے

Friday, 26 January 2024

چاہتا ہوں کہ مرا درد جگر اور بڑھے

 چاہتا ہوں کہ مِرا دردِ جگر اور بڑھے

تیرگیٔ شب غم تا بہ سحر اور بڑھے

دُور ہے مجھ سے ابھی دامنِ صد رنگ ان کا

کارواں اشکوں کا اے دیدۂ تر اور بڑھے

یوں تو تنہا ہی چلا جاؤں گا میں منزل تک

تم اگر ساتھ چلو، عزمِ سفر اور بڑھے

Thursday, 25 January 2024

یہ دل مرا مرے پہلو سے عنقریب چلا

یہ دل مِرا، مِرے پہلو سے عنقریب چلا

شکست کھا کے غموں سے مِرا رقیب چلا

جب ان کی بزم سے اُٹھ کر کوئی غریب چلا

فضائیں چیخ اُٹھیں؛، حُسن کا نقیب چلا

وہ پھر سمیٹ کے بانہوں میں کائنات کا رنگ

گلے صُراحی سے مِل کر مِرا حبیب چلا

Saturday, 26 June 2021

خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے

 خواب تو دیکھ چکے یار! سہانے کتنے

اب یہ بتلا کہ تِرے غم ہیں اٹھانے کتنے

پھول کِھلنے بھی نہ پائے تھے کہ چپکے چپکے

گشت کرنے لگے خوشبو کے دِوانے کتنے

تجھ کو معلوم نہیں ایک تِرے دل کے سوا

تیرے جوگی ہوئے دنیا میں ٹھکانے کتنے