تمنا ہے تمنا میں تِری جی سے گُزر جائیں
یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں
گُناہوں میں سما جائیں، کلیجے میں اتر جائیں
مِری دنیائے ہستی میں تِرے جلوے بکھر جائیں
نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے، نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے
تِرے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں