Showing posts with label بلدیو ہمدم. Show all posts
Showing posts with label بلدیو ہمدم. Show all posts

Friday, 26 June 2026

تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیں

 تمنا ہے تمنا میں تِری جی سے گُزر جائیں

یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں

گُناہوں میں سما جائیں، کلیجے میں اتر جائیں

مِری دنیائے ہستی میں تِرے جلوے بکھر جائیں

نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے، نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے

تِرے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں

Monday, 23 February 2026

روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ

 روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ

اور ہم دِیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھ

دور بڑھتا ہی گیا حسرت ناکام کے ساتھ

دل میں اک ٹِیس اٹھی آپ کے ہنگام کے ساتھ

آپ نے پُرسش غم کا بھی تکلف نہ کیا

دل میں ہم جلتے رہے حسرت ناکام کے ساتھ

Sunday, 26 October 2025

رائیگاں جاتا ہے کب الفت میں دیوانوں کا خوں

 رائیگاں جاتا ہے کب الفت میں دیوانوں کا خوں

رنگ لاتا ہے کسی دن ان کے ارمانوں کا خوں

حسن گل پر اس قدر مائل نہ ہو اے عندلیب

ہو کے رہ جائے گا اک دن تیرے ارمانوں کا خوں

خاک بلبل نے سنوارا غازہ بھی کر حسن گل

اور نور شمع میں چمکا ہے پروانوں کا خوں

Saturday, 25 October 2025

جلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتی

 جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتی

جلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتی

وہ سجدہ سجدہ نہیں جس میں ہوش باقی ہو

بہ قید ہوش جو ہو بندگی نہیں ہوتی

قبائے حسن کی تابش اگر ہو آنکھوں میں

بشر کے دل میں کبھی تیرگی نہیں ہوتی