جنونِ عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے
وہ میرے پاس تو آئے مگر اُداس آئے
جسے حیات کسی رُخ سے بھی نہ راس آئے
کسی کے پاس نہ جائے ہمارے پاس آئے
وہاں سے جلد گُزر جائیں رہروانِ حیات
جہاں بھی راہ میں کوئی مقامِ یاس آئے
جنونِ عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے
وہ میرے پاس تو آئے مگر اُداس آئے
جسے حیات کسی رُخ سے بھی نہ راس آئے
کسی کے پاس نہ جائے ہمارے پاس آئے
وہاں سے جلد گُزر جائیں رہروانِ حیات
جہاں بھی راہ میں کوئی مقامِ یاس آئے
نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھے
انہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھے
دیارِ حسنِ وفا طلب کی طرف قدم ہی اٹھائے کیوں تھے
جنوں کو الزام دینے والے جنوں کی باتوں میں آئے کیوں تھے
اسی خطا کی سزا میں اب تک نشانِ منزل نہیں ملا ہے
رہِ محبت میں اول اول مرے قدم ڈگمگائے کیوں تھے
دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں
یہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوں
عالم ہمہ دلدار ہے معلوم نہیں کیوں؟
جو غم ہے غم یار ہے معلوم نہیں کیوں
اب حسن بھی کچھ سامنے آنے میں ہے محتاط
اب عشق بھی خوددار ہے معلوم نہیں کیوں
غم نے دلوں کو رام کیا، اور گزر گیا
ظالم نے اپنا کام کیا، اور گزر گیا
صیاد کچھ تو خاطر اہل وفا کرے
یہ کیا اسیر دام کیا، اور گزر گیا
اے ساقیٔ! بہار تِرے ذوق کے نثار
ہر گُل کو ایک جام کیا، اور گزر گیا
غم ہستی نہ کچھ فکر دل و جاں ہے جہاں میں ہوں
کہ ہر ہر گام پر کوئی نگہباں ہے جہاں میں ہوں
ہر اک نظارہ سو پردوں میں پنہاں ہے جہاں میں ہوں
خدا جانے کہاں کل بزم امکاں ہے جہاں میں ہوں
ہر اک جذبہ تعین سے گریزاں ہے جہاں میں ہوں
غم دل بے نیاز کفر و ایماں ہے جہاں میں ہوں