Showing posts with label کیف مرادآبادی. Show all posts
Showing posts with label کیف مرادآبادی. Show all posts

Wednesday, 4 March 2026

نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے

 نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھے

انہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھے

دیارِ حسنِ وفا طلب کی طرف قدم ہی اٹھائے کیوں تھے

جنوں کو الزام دینے والے جنوں کی باتوں میں آئے کیوں تھے

اسی خطا کی سزا میں اب تک نشانِ منزل نہیں ملا ہے

رہِ محبت میں اول اول مرے قدم ڈگمگائے کیوں تھے

Tuesday, 3 September 2024

دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں

 دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں

یہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوں

عالم ہمہ دلدار ہے معلوم نہیں کیوں؟

جو غم ہے غم یار ہے معلوم نہیں کیوں

اب حسن بھی کچھ سامنے آنے میں ہے محتاط

اب عشق بھی خوددار ہے معلوم نہیں کیوں

Saturday, 31 August 2024

غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیا

 غم نے دلوں کو رام کیا، اور گزر گیا

ظالم نے اپنا کام کیا، اور گزر گیا

صیاد کچھ تو خاطر اہل وفا کرے

یہ کیا اسیر دام کیا، اور گزر گیا

اے ساقیٔ! بہار تِرے ذوق کے نثار

ہر گُل کو ایک جام کیا، اور گزر گیا

Wednesday, 28 August 2024

غم ہستی نہ کچھ فکر دل و جاں ہے جہاں میں ہوں

 غم ہستی نہ کچھ فکر دل و جاں ہے جہاں میں ہوں

کہ ہر ہر گام پر کوئی نگہباں ہے جہاں میں ہوں

ہر اک نظارہ سو پردوں میں پنہاں ہے جہاں میں ہوں

خدا جانے کہاں کل بزم امکاں ہے جہاں میں ہوں

ہر اک جذبہ تعین سے گریزاں ہے جہاں میں ہوں

غم دل بے نیاز کفر و ایماں ہے جہاں میں ہوں