نظر نظر سے ملائی کیوں تھی نفس نفس میں سمائے کیوں تھے
انہیں تھا منظور مجھ سے پردہ تو سامنے میرے آئے کیوں تھے
دیارِ حسنِ وفا طلب کی طرف قدم ہی اٹھائے کیوں تھے
جنوں کو الزام دینے والے جنوں کی باتوں میں آئے کیوں تھے
اسی خطا کی سزا میں اب تک نشانِ منزل نہیں ملا ہے
رہِ محبت میں اول اول مرے قدم ڈگمگائے کیوں تھے