Showing posts with label سرفراز بزمی. Show all posts
Showing posts with label سرفراز بزمی. Show all posts

Saturday, 2 December 2023

بلندی پر بہت اپنا مقدر دیکھ آیا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بلندی پر بہت اپنا مقدر دیکھ آیا ہوں

صفا سے خانۂ کعبہ کا منظر دیکھ آیا ہوں

حطیم و سنگ اسود، ملتزم، میزاب رحمت پر

لرزتے ہونٹ، آنکھوں میں سمندر دیکھ آیا ہوں

سر جمرات دنیائے بدی پر وار کرنے کو

جنوں کے ہاتھ میں تیار پتھر دیکھ آیا ہوں

Sunday, 8 October 2023

اے ارض فلسطین جگر بچھانے کی آرزو ہے

 اے ارضِ فلسطین جگر بچھانے کی آرزو ہے

ستم کی بیتاب بجلیوں سے نظر ملانے کی آرزو ہے

تمہارے بزمی کو شاہ بطحا کہاں زمانے کی آرزو ہے

صہیب بن کر بلال بن کر عزیمتوں کی مثال بن کر

حرم کی‌ تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو 

وہ کوہِ کابل سے کربلا تک لہو لہو قافلوں کا منظر

Sunday, 10 April 2022

قافلے پر جب کمیں گاہوں سے تیر آنے لگے

 قافلے پر جب کمیں گاہوں سے تیر آنے لگے

مڑ کے دیکھا سارے چہرے جانے پہچانے لگے

پھر بہار آئی ہے جانے کتنے گھر لے جائے گی

سرخ پتے گاؤں کے پیپل میں پھر آنے لگے

حوصلہ دینا مجھے اے رب کعبہﷻ! حوصلہ

جرم حق گوئی میں جب مقتل قریب آنے لگے

Tuesday, 9 November 2021

دل میں جو کچھ ہو کہو کھل کر پریشانی نہیں

 دل میں جو کچھ ہو، کہو کھل کر، پریشانی نہیں

"ہم فقیروں کے یہاں آدابِ سلطانی نہیں"

تن کے کپڑوں سے چھپے ہے من کی عریانی نہیں

پاک ملبوسات، لیکن پاکدامانی نہیں

عفتِ مریم کی کس کوچے میں ارزانی نہیں

ہاں مگر ظلِ الٰہی کو پشیمانی نہیں

Thursday, 28 October 2021

اللہ نگہبان ترا اے دل بیتاب

 اللہ نگہبان تِرا، اے دلِ بے تاب

ٹوٹی ہوئی کشتی ہے، بپھرتے ہوئے گرداب

جو موجِ حوادث کے تھپیڑوں میں پلا ہو

موتی وہی ہوتا ہے جہاں میں دُرِ نایاب

پھر آج دعاؤں میں گھٹا مانگ رہا ہے

سُوکھے ہوئے تالاب میں بیٹھا ہوا سُرخاب

Wednesday, 27 October 2021

کچھ تو کم تشنگئ آتش صحرائی کر

 کچھ تو کم تشنگئ آتشِ صحرائی کر

آبلہ پا ہی سہی، بادیہ پیمائی کر

لالہ و گل کو رخِ یار کا شیدائی کر

قیس چل دشت میں پھر انجمن آرائی کر

عقل کو خوف کہیں آبِ انا ٹوٹ نہ جائے

مستئ حسن یہ کہتی ہے؛ پذیرائی کر

Wednesday, 6 January 2021

بوئے چمن گئی نہ فراز چمن سے دور

 بوئے چمن گئی نہ فراز چمن سے دور

دیوانہ جائے گا کہاں دار و رسن سے دور

گل عارضوں سے دور، ہر اک گلبدن سے دور

فکرِ معاش لے چلی ہم کو وطن سے دور

مغرب کے آسمان پہ چمکا ہلال عید

ساغر چھلک رہے ہیں غریب الوطن سے دور

Tuesday, 17 November 2020

تو دیکھ لینا

 تو دیکھ لینا


سنہری کرنوں سے جگمگاتی ہوئی منڈیروں پہ بیٹھ کر جب

کوئی پری وش نہ گنگنائے

کوئی پرندہ نہ چہچہائے

کوئی پپیہا نہ گیت گائے

تو دیکھ لینا