اے ارضِ فلسطین جگر بچھانے کی آرزو ہے
ستم کی بیتاب بجلیوں سے نظر ملانے کی آرزو ہے
تمہارے بزمی کو شاہ بطحا کہاں زمانے کی آرزو ہے
صہیب بن کر بلال بن کر عزیمتوں کی مثال بن کر
حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو
وہ کوہِ کابل سے کربلا تک لہو لہو قافلوں کا منظر
وہ خار زاروں کی سرزمیں پر قدم قدم آبلوں کا منظر
عروجِ آدم کا اک قصیدہ جہان سے بدگمان لاشیں
کفن دریدہ ستم رسیدہ یہ سر بریدہ جوان لاشیں
حکایتِ کہسارِ غزنی،۔ شکایتِ آبِ رودِ دجلہ
لہو میں ڈوبی ہوئی صدائیں سنا رہی ہے زمین اقصیٰ
صدائے فرعون سن رہا ہوں، صدائے نمرود آ رہی ہے
کہ سامریوں کے سلسلے ہیں کہ یاد اخدود آ رہی ہے
بغیر مرہم یہ زخم سارے تمہیں دکھانے کی آرزو ہے
تمہارے بزمی کو شاہ بطحا کہاں زمانے کی آرزو ہے
سسکتی ماؤں! بلکتے بچو! یتیم بہنو! شہید روحو
تمہارے دم سے ہے کُفر لرزاں تمہی تو امت کی آبرو ہو
سمٹ رہی خزاں کی چادر بہار آنے کی آرزو ہے
تمہارے بزمی کو شاہ بطحا کہاں زمانے کی آرزو ہے
جگر کو عزمِ حسینؑ مانگوں نظر کو صِدقِ خلیلؑ مانگوں
میں شہر طائف کی وادیوں سے ادائے صبر جمیل مانگوں
میں بُوئے باغ بہشت پا کر کھجور ہاتھوں کے چھوڑ جاؤں
متاعِ جان عزیز دے دوں بھرم زمانے کے توڑ جاؤں
شرابِ کوثر کا جام پی کر کے جھوم جانے کی آرزو ہے
تمہارے بزمی کو شاہ بطحا کہاں زمانے کی آرزو ہے
سرفراز بزمی
No comments:
Post a Comment