Showing posts with label فیض لدھیانوی. Show all posts
Showing posts with label فیض لدھیانوی. Show all posts

Saturday, 8 October 2022

جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے

 آدمی 


جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے 

سب سے اشرف آدمی کی ذات ہے 

اس کی پیدائش میں ہے الفت کا راز 

اس کی ہستی پر ہے خود خالق کو ناز 

اس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوا 

Thursday, 14 July 2022

تیز سی تلوار سادہ سا قلم بس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کم

 تلوار اور قلم


تیز سی تلوار سادہ سا قلم 

بس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کم 

ایک ہے جنگی شجاعت کا نشاں 

ایک ہے علمی لیاقت کا نشاں 

آدمی کی زندگی دونوں سے ہے 

قوم کی تابندگی دونوں سے ہے 

Monday, 11 July 2022

اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے

 تجارت


اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے 

غور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہے 

ہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کرو 

جو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہے 

زندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیر 

ہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہے 

Sunday, 10 July 2022

غور کے قابل ہے دنیا کا نظام

 غور کے قابل ہے دنیا کا نظام 

اس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقام 

جنگ سے ہوتی ہے پیدا مفلسی 

مفلسی سے امن ہو جاتا ہے عام 

امن میں قومیں کہاں لیتی ہیں مال 

مال سے بڑھتا ہے کبر اے نیک نام 

Saturday, 9 July 2022

عید مبارک آئی ہے

 عیدی کا مطالبہ


عید مبارک آئی ہے 

سچی خوشیاں لائی ہے 

امی ہم کو عیدی دو 

عید ہنسانے والی ہے 

جیب ہماری خالی ہے 

Sunday, 27 June 2021

اے نئے سال بتا تجھ ميں نيا پن کيا ہے

 اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟

ہر طرف خلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی

آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ايک بات وہی

آسمان بدلا ہے افسوس نا بدلی ہے زميں

ايک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہيں

Monday, 5 April 2021

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں

بات نیت کی صرف ہے، ورنہ

وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں

بھول جاتے ہیں مت برا کہنا

لوگ پتلے خطا کے ہوتے ہیں