آدمی
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے
سب سے اشرف آدمی کی ذات ہے
اس کی پیدائش میں ہے الفت کا راز
اس کی ہستی پر ہے خود خالق کو ناز
اس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوا
آدمی
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے
سب سے اشرف آدمی کی ذات ہے
اس کی پیدائش میں ہے الفت کا راز
اس کی ہستی پر ہے خود خالق کو ناز
اس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوا
تلوار اور قلم
تیز سی تلوار سادہ سا قلم
بس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کم
ایک ہے جنگی شجاعت کا نشاں
ایک ہے علمی لیاقت کا نشاں
آدمی کی زندگی دونوں سے ہے
قوم کی تابندگی دونوں سے ہے
تجارت
اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہے
غور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہے
ہند کی تاریخ پڑھ کر ہی سبق حاصل کرو
جو تجارت کرنے آئے تھے اب ان کا راج ہے
زندہ رہ سکتا نہیں ہرگز تجارت کے بغیر
ہم نے یہ مانا کہ یورپ مرکز افواج ہے
غور کے قابل ہے دنیا کا نظام
اس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقام
جنگ سے ہوتی ہے پیدا مفلسی
مفلسی سے امن ہو جاتا ہے عام
امن میں قومیں کہاں لیتی ہیں مال
مال سے بڑھتا ہے کبر اے نیک نام
عیدی کا مطالبہ
عید مبارک آئی ہے
سچی خوشیاں لائی ہے
امی ہم کو عیدی دو
عید ہنسانے والی ہے
جیب ہماری خالی ہے
اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟
ہر طرف خلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ايک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہيں
قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
بات نیت کی صرف ہے، ورنہ
وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں
بھول جاتے ہیں مت برا کہنا
لوگ پتلے خطا کے ہوتے ہیں