Saturday, 8 October 2022

جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے

 آدمی 


جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے 

سب سے اشرف آدمی کی ذات ہے 

اس کی پیدائش میں ہے الفت کا راز 

اس کی ہستی پر ہے خود خالق کو ناز 

اس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوا 

یہ زمیں یہ آسماں پیدا ہوا 

عقل کا جوہر اسے بخشا گیا 

علم کا زیور اسے بخشا گیا 

اس کے سر میں ہے نہاں ایسا دماغ 

جس میں روشن ہے لیاقت کا چراغ 

سوچ کر ہر کام کر سکتا ہے یہ 

شیر کو بھی رام کر سکتا ہے یہ 

یہ صفائی سے چٹانیں توڑ دے 

اپنی دانائی سے دریا موڑ دے 

من چلا ہے اس کی ہمت ہے بلند 

ڈال سکتا ہے ستاروں پر کمند 

اس کو خطروں کی نہیں پروا ذرا 

آگ میں کودا، یہ سولی پر چڑھا 

اس کے ہر انداز میں اعجاز ہے 

عرش تک اس نور کی پرواز ہے 

اس کی باتوں میں عجب تاثیر ہے 

خاک کا پُتلا نہیں، اکسیر ہے 

یہ اگر نیکی کے زینے پر چڑھے 

ایک دن سارے فرشتوں سے بڑھے 

اور اگر عصیاں کی دلدل میں پھنسے 

اس کا درجہ کم ہو حیوانات سے 

یہ کبھی روئی سے بڑھ کر نرم ہے 

یہ کبھی سورج سے بڑھ کر گرم ہے 

ایک حالت پر نہیں اس کا مزاج 

ہر زمانے میں بدلتا ہے رواج 

اور تھا پہلے یہ اب کچھ اور ہے 

آئے دن اس کا نِرالا طور ہے 

اس نے بے حد روپ بدلے آج تک 

اس کی تدبیروں سے حیراں ہے فلک 

ڈاکٹر، تاجر، پروفیسر، وکیل 

ان کا ہونا ہے ترقی کی دلیل 

اس کے پہلو میں وہ دل موجود ہے 

جو بھڑکنے میں نرا بارود ہے 

ریل گاڑی، ریڈیو، موٹر، جہاز 

اس کی ایجادوں کا قصہ ہے دراز 

دستکاری میں بڑا مشاق ہے 

جدتوں کا ہر گھڑی مشتاق ہے 

کھول آنکھیں جنگ کی رفتار دیکھ 

دیکھ اس کے خوفناک اوزار دیکھ 

یہ کہیں حاکم، کہیں محکوم ہے 

یہ کہیں ظالم، کہیں مظلوم ہے 

آدمی جب غیر کے آگے جھکا 

آدمیت سے بھٹکتا ہی گیا 

آدمی ملنا بہت دشوار ہے 

خود خدا کو آدمی درکار ہے 

پیارے بچو! آدمی بن کر رہو 

ہر کسی کے ساتھ ہمدردی کرو 

سچ اگر پوچھو تو بس وہ مرد ہے 

جس کے دل میں دوسروں کا درد ہے 

فیض پہنچاتا نہیں جو آدمی 

اس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی 

اس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی


فیض لدھیانوی

No comments:

Post a Comment