تمہاری بزم میں جس بات کا بھی چرچا تھا
مجھے یقین ہے اس میں نہ ذکر میرا تھا
نہ سرد آہیں، نہ شکوے، نہ ذکرِ دردِ فراق
ہمارے عشق کا انداز ہی نرالا تھا
کل آ گیا تھا سوا نیزے پر مِرا سورج
میں جل رہا تھا مگر ہر طرف اندھیرا تھا
تمہاری بزم میں جس بات کا بھی چرچا تھا
مجھے یقین ہے اس میں نہ ذکر میرا تھا
نہ سرد آہیں، نہ شکوے، نہ ذکرِ دردِ فراق
ہمارے عشق کا انداز ہی نرالا تھا
کل آ گیا تھا سوا نیزے پر مِرا سورج
میں جل رہا تھا مگر ہر طرف اندھیرا تھا
کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا
کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا
بستر میں چلی آئیں مچلتی ہوئی کرنیں
آغوش میں تکیہ تھا سو انجان بنا تھا
وہ میں تھا مرا سایہ تھا یا سائے کا سایہ
آئینہ مقابل تھا میں حیران بنا تھا
سناٹے کا درد نکھارا کرتا ہوں
خود کو خاموشی سے پکارا کرتا ہوں
تنہائی جب آئینہ دکھلاتی ہے
اپنی ذات کا پہروں نظارہ کرتا ہوں
آوازوں کا بوجھ اٹھائے صدیوں سے
بنجاروں کی طرح گزارہ کرتا ہوں
تنہا اداس شب کے سوا کوئی بھی نہ تھا
سناٹا آیا جھانک کے گھر میں چلا گیا
بے کیفیوں کی جھیل میں بے حس سے کچھ پرند
بیٹھے تھے تھوڑی دیر مگر اس سے کیا ہوا
چہروں کے میلے جسموں کے جنگل تھے ہر جگہ
ان میں کہیں بھی کوئی مگر آدمی نہ تھا
بہت تذکرہ داستانوں میں تھا
تو کیا وہ کہیں آسمانوں میں تھا
مجھے دیکھ کر کل وہ ہنستا رہا
تو وہ بھی مرے راز دانوں میں تھا
وہ ہر شب چباتا رہا اژدھے
سنا ہے کہ وہ نوجوانوں میں تھا
کس کا ہے جرم کس کی خطا سوچنا پڑا
رہتے ہیں کیوں وہ ہم سے خفا سوچنا پڑا
گل کی ہنسی میں رقص نجوم و قمر بھی ہیں
شامل ہے کتنی تیری ادا سوچنا پڑا
جب بھی مِری وفاؤں کی بات آ گئی کہیں
ان کو پھر ایک عذرِ جفا سوچنا پڑا