Showing posts with label ابرار اعظمی. Show all posts
Showing posts with label ابرار اعظمی. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

تمہاری بزم میں جس بات کا بھی چرچا تھا

 تمہاری بزم میں جس بات کا بھی چرچا تھا

مجھے یقین ہے اس میں نہ ذکر میرا تھا

نہ سرد آہیں، نہ شکوے، نہ ذکرِ دردِ فراق

ہمارے عشق کا انداز ہی نرالا تھا

کل آ گیا تھا سوا نیزے پر مِرا سورج

میں جل رہا تھا مگر ہر طرف اندھیرا تھا

Friday, 21 May 2021

کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا

 کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا

کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا

بستر میں چلی آئیں مچلتی ہوئی کرنیں

آغوش میں تکیہ تھا سو انجان بنا تھا

وہ میں تھا مرا سایہ تھا یا سائے کا سایہ

آئینہ مقابل تھا میں حیران بنا تھا

Thursday, 20 May 2021

سناٹے کا درد نکھارا کرتا ہوں

 سناٹے کا درد نکھارا کرتا ہوں

خود کو خاموشی سے پکارا کرتا ہوں

تنہائی جب آئینہ دکھلاتی ہے

اپنی ذات کا پہروں نظارہ کرتا ہوں

آوازوں کا بوجھ اٹھائے صدیوں سے

بنجاروں کی طرح گزارہ کرتا ہوں

تنہا اداس شب کے سوا کوئی بھی نہ تھا

 تنہا اداس شب کے سوا کوئی بھی نہ تھا

سناٹا آیا جھانک کے گھر میں چلا گیا

بے کیفیوں کی جھیل میں بے حس سے کچھ پرند

بیٹھے تھے تھوڑی دیر مگر اس سے کیا ہوا

چہروں کے میلے جسموں کے جنگل تھے ہر جگہ

ان میں کہیں بھی کوئی مگر آدمی نہ تھا

Wednesday, 19 May 2021

بہت تذکرہ داستانوں میں تھا

 بہت تذکرہ داستانوں میں تھا

تو کیا وہ کہیں آسمانوں میں تھا

مجھے دیکھ کر کل وہ ہنستا رہا

تو وہ بھی مرے راز دانوں میں تھا

وہ ہر شب چباتا رہا اژدھے

سنا ہے کہ وہ نوجوانوں میں تھا

Tuesday, 23 March 2021

کس کا ہے جرم کس کی خطا سوچنا پڑا

 کس کا ہے جرم کس کی خطا سوچنا پڑا

رہتے ہیں کیوں وہ ہم سے خفا سوچنا پڑا

گل کی ہنسی میں رقص نجوم و قمر بھی ہیں

شامل ہے کتنی تیری ادا سوچنا پڑا

جب بھی مِری وفاؤں کی بات آ گئی کہیں

ان کو پھر ایک عذرِ جفا سوچنا پڑا