Showing posts with label سید محمد جعفری. Show all posts
Showing posts with label سید محمد جعفری. Show all posts

Thursday, 11 April 2024

جو چاند پر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

 آدمی


جو چاند پر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

جو گپ اڑا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

جو ہنس ہنسا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

جو جی جلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ہیں آدمی کے سارے زمانے میں رنگ روپ

ہیں آدمی ہی چاندنی اور آدمی ہی دھوپ

Wednesday, 10 April 2024

قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گے

 عید کی خریداری


مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گے

جو دانا ہیں وہ بیچیں گے جو ہیں ناداں خریدیں گے

جو سیاں شوق سے کھائیں وہ سویاں خریدیں گے

مرکب سود کا سودا بہ نقد جاں خریدیں گے

مسلمانوں کے سر پر جب مہ شوال آتا ہے

تو ان کی اقتصادیات میں بھونچال آتا ہے

Tuesday, 29 June 2021

پھر آ گیا ہے ملک میں قربانیوں کا مال

قربانی کے بکرے


پھر آ گیا ہے ملک میں قربانیوں کا مال

کی اختیار قیمتوں نے راکٹوں کی چال

قامت میں بکرا اونٹ کی قیمت کا ہم خیال

دل بیٹھتا ہے اٹھتے ہی قربانی کا سوال

قیمت نے آدمی ہی کو بکرا بنا دیا

بکرے کو مثل ناقۂ لیلیٰ بنا دیا

Wednesday, 21 April 2021

وہ مریضان ذیابیطس جو آئے ہیں یہاں

ذیابیطس کے مریض


وہ مریضان ذیابیطس جو آئے ہیں یہاں

ان میں بچے بھی ہیں شامل اور بوڑھے اور جواں

اس زمانے میں کہ جب ہے ملک میں ہر شے گراں

یہ بناتے ہیں شکر بڑھتی ہیں جس سے تلخیاں

خون کی نلیوں میں کالسٹرول بڑھ جائے اگر

''پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر''

Friday, 2 October 2020

اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھے

اے غم دل کیا کروں


اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھے

ہو گیا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے

دودھ میں بالکل نظر آتا نہیں پانی مجھے

دل نے کر رکھا ہے محو صد پریشانی مجھے

''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''


کام دھندا کچھ نہیں دل کس طرح بہلاؤں میں