آدمی
جو چاند پر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو گپ اڑا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو ہنس ہنسا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو جی جلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ہیں آدمی کے سارے زمانے میں رنگ روپ
ہیں آدمی ہی چاندنی اور آدمی ہی دھوپ
آدمی
جو چاند پر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو گپ اڑا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو ہنس ہنسا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
جو جی جلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
ہیں آدمی کے سارے زمانے میں رنگ روپ
ہیں آدمی ہی چاندنی اور آدمی ہی دھوپ
عید کی خریداری
مسلماں قرض لے کر عید کا ساماں خریدیں گے
جو دانا ہیں وہ بیچیں گے جو ہیں ناداں خریدیں گے
جو سیاں شوق سے کھائیں وہ سویاں خریدیں گے
مرکب سود کا سودا بہ نقد جاں خریدیں گے
مسلمانوں کے سر پر جب مہ شوال آتا ہے
تو ان کی اقتصادیات میں بھونچال آتا ہے
قربانی کے بکرے
پھر آ گیا ہے ملک میں قربانیوں کا مال
کی اختیار قیمتوں نے راکٹوں کی چال
قامت میں بکرا اونٹ کی قیمت کا ہم خیال
دل بیٹھتا ہے اٹھتے ہی قربانی کا سوال
قیمت نے آدمی ہی کو بکرا بنا دیا
بکرے کو مثل ناقۂ لیلیٰ بنا دیا
ذیابیطس کے مریض
وہ مریضان ذیابیطس جو آئے ہیں یہاں
ان میں بچے بھی ہیں شامل اور بوڑھے اور جواں
اس زمانے میں کہ جب ہے ملک میں ہر شے گراں
یہ بناتے ہیں شکر بڑھتی ہیں جس سے تلخیاں
خون کی نلیوں میں کالسٹرول بڑھ جائے اگر
''پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر''
اے غم دل کیا کروں
اتنی گزری ہے گراں چیزوں کی ارزانی مجھے
ہو گیا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
دودھ میں بالکل نظر آتا نہیں پانی مجھے
دل نے کر رکھا ہے محو صد پریشانی مجھے
''اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں''
کام دھندا کچھ نہیں دل کس طرح بہلاؤں میں