عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سینے میں جس کے ہے بسی الفت حسینؑ کی
بس وہ بیان کرتا ہے عظمت حسینؑ کی
جان و جگر سے کرتے ہیں مدحت حسینؑ کی
محشر میں کام آئے گی چاہت حسینؑ کی
جس کو نبیﷺ سے پیار، محبت ہے دوستو
وہ دل میں کیسے پالے گا نفرت حسینؑ کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سینے میں جس کے ہے بسی الفت حسینؑ کی
بس وہ بیان کرتا ہے عظمت حسینؑ کی
جان و جگر سے کرتے ہیں مدحت حسینؑ کی
محشر میں کام آئے گی چاہت حسینؑ کی
جس کو نبیﷺ سے پیار، محبت ہے دوستو
وہ دل میں کیسے پالے گا نفرت حسینؑ کی
حاکمِ وقت ہی قاتل ہے، خُدا خیر کرے
ہم سے مرعوب نہ باطل ہے خدا خیر کرے
اس لیے شیدا مِرا دل ہے خدا خیر کرے
اس کے رُخسار پہ اک تِل ہے خدا خیر کرے
وہ بس اک بار مجھے دل سے لگائے اپنے
آرزوئے دلِ بسمل ہے خدا خیر کرے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم سے آشفتہ سرا کو دل سے یہ اقرار ہے
عکس جنت کا نبئ پاکﷺ کا دربار ہے
اس کی آنکھیں قیمتی ہر شے سے بڑھ کر ہیں جناب
جس کی آنکھوں کو بھی حاصل آپؐ کا دیدار ہے
چودہ سو سالوں سے جس پہ ناز ہے اس دہر کو
وہ خدا کا نیک بندہ سید ابرارﷺ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھے لگتا نہیں ہے کوئی ڈر طیبہ کہ گلیوں میں
حیات اپنی مکمل ہو بسر طیبہ کیہ گلیوں میں
قبول اب تو دل ناداں کی ہو جائے دُعا یا رب
اسے جینا ہے جا کر عمر بھر طیبہ کی گلیوں میں
سلام ان کو مِرا کہنا عقیدت سے محبت سے
تِرا جس وقت ہو زائر گُزر طیبہ کی گلیوں میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مُعطّر مُعطّر فضائے محمدﷺ
ہے پُھولوں کہ خُوشبو ادائے محمدﷺ
وہ مکہ کی وادی وہ ایمان لانا
مؤثر تھی کتنی صدائے محمدﷺ
سُنا ہے کہ ہوتے ہیں سُلطاں سے اعلیٰ
بنا دے مجھے بھی گدائے محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہائے دل کی لگی میں مدینے چلا
میری قسمت جگی میں مدینے چلا
مل گئی ہر خوشی میں مدینے چلا
آس پوری ہوئی میں مدینے چلا
نیند آتی نہیں چین آتا نہیں
بے قراری بڑھی میں مدینے چلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خُدا کی رحمت ہے ان پہ لوگوں مدینہ سج کے جو جا رہے ہیں
ہے "مرحبا" کی صدا فلک پر، فرشتے خُوشیاں منا رہے ہیں
فضا ہے دلکش، حسیں نظارے، بتا رہے ہیں جو دیکھ آئے
سکون دل کو وہاں ملے گا، یہ آنے والے بتا رہے ہیں
حسین رہتے ہیں ان کے چہرے، ثواب ملتا ہے ان کو پیہم
سدا جو چہرے پہ اپنے سُنت نبیﷺ کی یارو سجا رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلم میں جاں عطا کر اور لفظوں میں اثر دے دے
نبیﷺ کی نعت لکھنے کا خدایا! تُو ہنر دے دے
مِرے دل کی ہے یہ چاہت ارادہ بھی مصمّم ہے
مدینے کو چلا جاؤں تُو بس رختِ سفر دے دے
تمنّا میرے جینے کی دیارِ مصطفیٰﷺ میں ہے
مجھے تسلیم ہے مولیٰ اجل بھی تٗو اگر دے دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لہو و لعب میں وقت نہ اپنا زیاں کرو
پڑھ کر درود پاک دل اپنا جواں کرو
چھایا ہے دل پہ ابر گُناہوں کا دوستو
روشن درودِ پاک سے دل کا مکاں کرو
عشقِ نبیؐ میں ڈُوب کے غمگین قلب کو
نعتِ نبیﷺ سُنا کے اسے شادماں کرو
اک دن ملا وہ اور کے گلے سے لگا ہوا
کیا ہی عجب یہ ساتھ مِرے حادثہ ہوا
مِلتی نہیں کسی سے وفائیں ہمیں مگر
الفاظ یہ ہے سب کی زباں پر چڑھا ہوا
اک شخص تھا جہان میں وہ بھی بچھڑ گیا
جائیں کہاں پہ لے کے دل اپنا دُکھا ہوا؟
جب جب قریب میرے وہ آتا چلا گیا
رسماً نظر میں اپنی جھُکاتا چلا گیا
تعبیر اس کی کیا ہے یہ سوچا تلک نہیں
بس خواب ان کو اپنا بتاتا چلا گیا
جذبے کو میرے دیکھ تو ہمت کی داد دے
سورج کو میں بھی آنکھ دِکھاتا چلا گیا