Monday, 7 February 2022

اک دن ملا وہ اور کے گلے سے لگا ہوا

اک دن ملا وہ اور کے گلے سے لگا ہوا

کیا ہی عجب یہ ساتھ مِرے حادثہ ہوا

مِلتی نہیں کسی سے وفائیں ہمیں مگر

الفاظ یہ ہے سب کی زباں پر چڑھا ہوا

اک شخص تھا جہان میں وہ بھی بچھڑ گیا 

جائیں کہاں پہ لے کے دل اپنا دُکھا ہوا؟

چہرے پہ جب نظر پڑی پھر دل نے یہ کہا

جیسے کسی سے وصل کا وعدہ وفا ہوا

مجھ کو بھلا کرے گا وہ تسلیم کس طرح

میرا گریباں چاک ہے،۔ دامن پھٹا ہوا

شاید ہے اس کے دل میں نفرت مِری بھری

پڑھتا نہیں وہ شعر مِرا کیوں لکھا ہوا

مجھ کو سفر میں اس کی جو صحبت ہوئی نصیب

کاظم جی جیسے ساتھ کوئی قافلہ ہوا


کاظم شیرازی

No comments:

Post a Comment