آج کا کرب تو کچھ اور بھی بڑھ کر نکلا
میرا ماضی ہی مِرے حال سے بہتر نکلا
سائے کی طرح جو رہتا تھا مِرے ساتھ کبھی
آج تو وہ مِرے سائے سے بھی بچ کر نکلا
میں تو سمجھا تھا کفن اوڑھ لیا سبزے نے
برف پگھلی تو وہ کچھ اور نکھر کر نکلا
آج کا کرب تو کچھ اور بھی بڑھ کر نکلا
میرا ماضی ہی مِرے حال سے بہتر نکلا
سائے کی طرح جو رہتا تھا مِرے ساتھ کبھی
آج تو وہ مِرے سائے سے بھی بچ کر نکلا
میں تو سمجھا تھا کفن اوڑھ لیا سبزے نے
برف پگھلی تو وہ کچھ اور نکھر کر نکلا
جو یہ حرص و ہوس کے سلسلے ہیں
انہیں میں ہم الجھ کر رہ گئے ہیں
ہم اک دوسرے سے یوں تو مل رہے ہیں
دلوں میں اپنے پھر بھی فاصلے ہیں
برس جائیں تو کوئی بات ہو گی
سروں پر اپنے جو بادل گھنے ہیں
بہت دور تک ساتھ اس کا رہا
بہت دیر تک وقت ٹھہرا رہا
میں تکتا رہا دیر تک آسماں
مِری آنکھ میں ایک تارا رہا
کسی کو نہ کر پائے ہم مطمئن
عجب زندگی کا جھمیلا رہا
دُھواں اُٹھ رہا ہے جو باہر میاں
سُلگتا ہے کچھ اپنے اندر میاں
میں خُود تو بھٹکنے کا قائل نہیں
گُھماتا پھرے ہے مقدر میاں
گُماں بیٹھے بیٹھے یہ اکثر ہوا
گیا ہے ابھی کوئی اُٹھ کر میاں