Showing posts with label احسن رضوی. Show all posts
Showing posts with label احسن رضوی. Show all posts

Saturday, 18 July 2026

میرا ماضی ہی مرے حال سے بہتر نکلا

 آج کا کرب تو کچھ اور بھی بڑھ کر نکلا

میرا ماضی ہی مِرے حال سے بہتر نکلا

سائے کی طرح جو رہتا تھا مِرے ساتھ کبھی

آج تو وہ مِرے سائے سے بھی بچ کر نکلا

میں تو سمجھا تھا کفن اوڑھ لیا سبزے نے

برف پگھلی تو وہ کچھ اور نکھر کر نکلا

Thursday, 3 July 2025

جو یہ حرص و ہوس کے سلسلے ہیں

 جو یہ حرص و ہوس کے سلسلے ہیں

انہیں میں ہم الجھ کر رہ گئے ہیں

ہم اک دوسرے سے یوں تو مل رہے ہیں

دلوں میں اپنے پھر بھی فاصلے ہیں

برس جائیں تو کوئی بات ہو گی

سروں پر اپنے جو بادل گھنے ہیں

Wednesday, 11 December 2024

بہت دور تک ساتھ اس کا رہا

 بہت دور تک ساتھ اس کا رہا

بہت دیر تک وقت ٹھہرا رہا

میں تکتا رہا دیر تک آسماں

مِری آنکھ میں ایک تارا رہا

کسی کو نہ کر پائے ہم مطمئن

عجب زندگی کا جھمیلا رہا

Monday, 13 September 2021

دھواں اٹھ رہا ہے جو باہر میاں

دُھواں اُٹھ رہا ہے جو باہر میاں

سُلگتا ہے کچھ اپنے اندر میاں

میں خُود تو بھٹکنے کا قائل نہیں

گُھماتا پھرے ہے مقدر میاں

گُماں بیٹھے بیٹھے یہ اکثر ہوا

گیا ہے ابھی کوئی اُٹھ کر میاں