گُم ہے فضا چمن کی نظاروں کو کیا ہُوا
گُل ہیں اُداس اُداس بہاروں کو کیا ہوا
کیوں ان کی روشنی ہے شب غم سے دُور دُور
اے آسمان! تیرے ستاروں کو کیا ہوا
دیکھے تو کوئی ان کا تغافل کہ بعدِ مرگ
وہ پُوچھتے ہیں درد کے ماروں کو کیا ہوا
قارون وقت ہے مِری حالت پہ طعنہ زن
پروردگار تیرے سہاروں کو کیا ہوا
بار گِراں ہوئے ہیں تکلّم کے پھُول بھی
راہوں میں چلتے پھِرتے مزاروں کو کیا ہوا
محفوظ اہلِ ظُلم کا قصرِ حیات ہے
اے دل کی آہ! تیرے شراروں کو کیا ہوا
وہ تو ہوائے وقت کے جھونکے تھے اے خلیق
کیوں آج سوچتے ہو کہ یاروں کو کیا ہوا
خلیق برہانپوری
No comments:
Post a Comment