کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو
کرو تم عقل کی باتیں مجھے نادان رہنے دو
کرو جو چاہے فنکاری ہمیں لینا ہے کیا اس سے
فرشتہ کیا کروں گا بن کر مجھے انسان رہنے دو
نہ جتلاؤ وہی باتیں جنہیں میں بھول آیا ہوں
اخوت پیار کی مجھ کو ذرا پہچان رہنے دو
کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو
کرو تم عقل کی باتیں مجھے نادان رہنے دو
کرو جو چاہے فنکاری ہمیں لینا ہے کیا اس سے
فرشتہ کیا کروں گا بن کر مجھے انسان رہنے دو
نہ جتلاؤ وہی باتیں جنہیں میں بھول آیا ہوں
اخوت پیار کی مجھ کو ذرا پہچان رہنے دو
نہ کوئی جادو نہ سحر ہے مجھ میں
بس ایک عیبوں کا ہنر ہے مجھ میں
بانہیں پھیلائے بکھیرے ہوئے شاخیں
ابھی اک محبت کا شجر ہے مجھ میں
کسی مہرباں نہ دوست پرندے کا گزر
اک تِری یادوں کا کھنڈر ہے مجھ میں
چل پڑے جس گھڑی اجل آئی
میری دنیا كو ہی بدل آئی
سینہ چھلنی رُکی رُکی دھڑکن
جو بلبلِ زِیست بروئے گُل آئی
بنگاہِ حسرت دیکھ لیا اس نے
خواہشِ زیست پهر أبل آئی
تشنہ لب تھے ذات کے پنجرے میں قید
کُہنہ مشق اپنے ہنر کے حُجرے میں قید
کیا سبب کفر ہے پروان میں چاروں طرف
عشق اب تک ہے توحید کے سجدے میں قید
عشق آوارہ، ٹوٹا تارہ، سچا عاشق در بدر
حُسن ہے بس اپنی ادا کے نخرے میں قید
شبِ فرقت کب سے کوئی سویا نہیں
شمار زندوں میں ہے مگر گویا نہیں
مدعا میں کہتا کسے سرِ بزمِ عدو
میں لب کشا تو تھا مگر گویا نہیں
کھو دیا تُو نے مجھے کس بات پر
میں نے تو اب تک تجھے کھویا نہیں
ہم نہ پارسا رہے نہ دنیا دار ہوئے
زمانے بھر میں بھی ہمی خوار ہوئے
جس نے دیکھا اک حقارت تھی عیاں
سب کے جیسے ہمی قرض خوار ہوئے
معصیت تھی ہمارا پہلا ہی خاصہ
جن کی نیت نہ کی گناہ شمار ہوئے