Showing posts with label قیصر مختار. Show all posts
Showing posts with label قیصر مختار. Show all posts

Thursday, 3 March 2022

کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو

 کرو گے جان کر کیا تم مجھے انجان رہنے دو

کرو تم عقل کی باتیں مجھے نادان رہنے دو

کرو جو چاہے فنکاری ہمیں لینا ہے کیا اس سے

فرشتہ کیا کروں گا بن کر مجھے انسان رہنے دو

نہ جتلاؤ وہی باتیں جنہیں میں بھول آیا ہوں

اخوت پیار کی مجھ کو ذرا پہچان رہنے دو

Monday, 28 February 2022

نہ کوئی جادو نہ سحر ہے مجھ میں

 نہ کوئی جادو نہ سحر ہے مجھ میں

بس ایک عیبوں کا ہنر ہے مجھ میں

بانہیں پھیلائے بکھیرے ہوئے شاخیں

ابھی اک محبت کا شجر ہے مجھ میں

کسی مہرباں نہ دوست پرندے کا گزر

اک تِری یادوں کا کھنڈر ہے مجھ میں

Saturday, 12 February 2022

چل پڑے جس گھڑی اجل آئی

 چل پڑے جس گھڑی اجل آئی

میری دنیا كو ہی بدل آئی

سینہ چھلنی رُکی رُکی دھڑکن

جو بلبلِ زِیست بروئے گُل آئی

بنگاہِ حسرت دیکھ لیا اس نے

خواہشِ زیست پهر أبل آئی

Thursday, 27 January 2022

تشنہ لب تھے ذات کے پنجرے میں قید

 تشنہ لب تھے ذات کے پنجرے میں قید

کُہنہ مشق اپنے ہنر کے حُجرے میں قید

کیا سبب کفر ہے پروان میں چاروں طرف

عشق اب تک ہے توحید کے سجدے میں قید

عشق آوارہ، ٹوٹا تارہ، سچا عاشق در بدر

حُسن ہے بس اپنی ادا کے نخرے میں قید

Wednesday, 26 January 2022

شب فرقت کب سے کوئی سویا نہیں

 شبِ فرقت کب سے کوئی سویا نہیں

شمار زندوں میں ہے مگر گویا نہیں

مدعا میں کہتا کسے سرِ بزمِ عدو

میں لب کشا تو تھا مگر گویا نہیں

کھو دیا تُو نے مجھے کس بات پر

میں نے تو اب تک تجھے کھویا نہیں

Tuesday, 25 January 2022

ہم نہ پارسا رہے نہ دنیا دار ہوئے

 ہم نہ پارسا رہے نہ دنیا دار ہوئے

زمانے بھر میں بھی ہمی خوار ہوئے

جس نے دیکھا اک حقارت تھی عیاں

سب کے جیسے ہمی قرض خوار ہوئے

معصیت تھی ہمارا پہلا ہی خاصہ

جن کی نیت نہ کی گناہ شمار ہوئے