ہمسفری
دو صدیاں کیسے بات کریں
سکھیاں بن جائیں
ساتھ چلیں
آکاش سے پھیلی دھرتی تک
شیشے کی اک دیوار کھنچی
ہمسفری
دو صدیاں کیسے بات کریں
سکھیاں بن جائیں
ساتھ چلیں
آکاش سے پھیلی دھرتی تک
شیشے کی اک دیوار کھنچی
آگ کی پیاس
میں آگ بھی تھا اور پیاسا بھی
تُو موم تھی اور گنگا جل بھی
میں لپٹ لپٹ کر
بھڑک بھڑک کر
پیاس بجھاتی آنکھوں میں بجھ جاتا تھا
وہ آنکھیں سپنے والی سی
دامن کشاں
ہر اک گام پر
;ایک مدھم سی آواز کہتی ہے
یہ راستہ
جانا پہچانا پُرکھوں کا چھانا ہوا راستہ
جانے پہچانے رستے کی آسانیاں
ان میں بے جا تحفظ حضر کی تمنا ہے
توازن
برسوں بیٹھ کے سوچیں پھر بھی
ہاتھ کے آگے پڑا نوالہ
آپ حلق کے پار نہ جائے
یہ ادنیٰ ناخن تک شاید بڑھتے بڑھتے
جال بچھائیں
تُو مِرے پاس رہے میں تِری الفت میں فنا
جیسے انگاروں پہ چھینٹوں سے دھواں
بنتِ مہتاب کو ہالے میں لیے
تُو فروزاں ہو مگر ساری تپش میری ہو
پھیلے افلاک میں بے سمت سفر
ساتھ میں وقت کا رہوار لیے
سکوت
رات پھیلتی گئی ہے
دور دور جنگلوں میں
راستہ ٹٹولتی
ہوا کی سائیں سائیں
جیسے سانس رک رہی ہو