Showing posts with label ابرارالحسن. Show all posts
Showing posts with label ابرارالحسن. Show all posts

Saturday, 7 August 2021

دو صدیاں کیسے بات کریں سکھیاں بن جائیں

 ہمسفری


دو صدیاں کیسے بات کریں

سکھیاں بن جائیں

ساتھ چلیں

آکاش سے پھیلی دھرتی تک

شیشے کی اک دیوار کھنچی

Monday, 26 July 2021

میں آگ بھی تھا اور پیاسا بھی

 آگ کی پیاس


میں آگ بھی تھا اور پیاسا بھی

تُو موم تھی اور گنگا جل بھی

میں لپٹ لپٹ کر

بھڑک بھڑک کر

پیاس بجھاتی آنکھوں میں بجھ جاتا تھا

وہ آنکھیں سپنے والی سی

Wednesday, 21 July 2021

ہر اک گام پر ایک مدھم سی آواز کہتی ہے

 دامن کشاں


ہر اک گام پر

;ایک مدھم سی آواز کہتی ہے

یہ راستہ

جانا پہچانا پُرکھوں کا چھانا ہوا راستہ

جانے پہچانے رستے کی آسانیاں

ان میں بے جا تحفظ حضر کی تمنا ہے

Tuesday, 20 July 2021

برسوں بیٹھ کے سوچیں پھر بھی

 توازن


برسوں بیٹھ کے سوچیں پھر بھی

ہاتھ کے آگے پڑا نوالہ

آپ حلق کے پار نہ جائے

یہ ادنیٰ ناخن تک شاید بڑھتے بڑھتے

جال بچھائیں

Friday, 9 July 2021

تو مرے پاس رہے میں تری الفت میں فنا

تُو مِرے پاس رہے میں تِری الفت میں فنا

جیسے انگاروں پہ چھینٹوں سے دھواں

بنتِ مہتاب کو ہالے میں لیے

تُو فروزاں ہو مگر ساری تپش میری ہو

پھیلے افلاک میں بے سمت سفر

ساتھ میں وقت کا رہوار لیے

Thursday, 10 December 2020

رات پھیلتی گئی ہے

 سکوت


رات پھیلتی گئی ہے

دور دور جنگلوں میں

راستہ ٹٹولتی

ہوا کی سائیں سائیں

جیسے سانس رک رہی ہو