Tuesday, 20 July 2021

برسوں بیٹھ کے سوچیں پھر بھی

 توازن


برسوں بیٹھ کے سوچیں پھر بھی

ہاتھ کے آگے پڑا نوالہ

آپ حلق کے پار نہ جائے

یہ ادنیٰ ناخن تک شاید بڑھتے بڑھتے

جال بچھائیں

گیان نگر بے حد دلکش ہے

لیکن اس کے رستے میں جو خار پڑے ہیں

کون ہٹائے؟

صدیوں کی سوچوں کا مرقع

ٹوٹے ہوئے اس بت کو دیکھو

ہرے بھرے خود رو سبزے نے گھیر رکھا ہے

فرق کشادہ سے چڑیوں کی یاد دہانی

چاہِ ذقن پہ کائی جمی ہے

ہو سکتا ہے شاید اس کو گیان ملا ہو

ہو سکتا ہے


ابرارالحسن

No comments:

Post a Comment