Showing posts with label شفا کجگاؤنوی. Show all posts
Showing posts with label شفا کجگاؤنوی. Show all posts

Saturday, 10 September 2022

دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

 دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں

عدل کے لیے ملزم کب سے راہ تکتا ہے

کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں

گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں

کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں

Tuesday, 6 September 2022

تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں

 تعلقات چٹختے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں

جب ہم خلوص و محبت کو آزماتے ہیں

خوشی کا ایک نیا زاویہ اُبھرتا ہے

ہم اپنے بچوں سے جس وقت ہار جاتے ہیں

شغف ہے خوب روایات رفتگاں سے مگر

ہم عہدِ نو کے ترانے بھی گنگناتے ہیں

Thursday, 25 August 2022

خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا

 خونِ نا حق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا

اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا

جب سے ہے قید حِصاروں میں تکبر کے انا

خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا

جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے

سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا

Friday, 19 August 2022

وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا

 سانپ سیڑھی کا کھیل


وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو

ہم عہدِ طِفلی میں کھیلتے تھے

اگرچہ سانپوں سے گھِر بھی جاتے

جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا

تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے

Tuesday, 11 May 2021

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

 جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

ان کے ذہنوں میں نہ مسجد، نہ شوالے ہوں گے

بھُوکے بچوں کی اُمیدیں نہ شکستہ ہو جائیں

ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں اُبالے ہوں گے

تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بُلا لے اس کو

میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے

Monday, 10 May 2021

وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

 وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

درد حد سے سوا نہیں ہوتا

میری کوشش کو جو رضا ملتی

لفظ یوں بے صدا نہیں ہوتا

ہمزباں تو بہت ملے، لیکن

کیوں کوئی ہمنوا نہیں ہوتا