دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں
تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں
عدل کے لیے ملزم کب سے راہ تکتا ہے
کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں
گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں
کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں
دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں
تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں
عدل کے لیے ملزم کب سے راہ تکتا ہے
کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں
گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں
کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں
تعلقات چٹختے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں
جب ہم خلوص و محبت کو آزماتے ہیں
خوشی کا ایک نیا زاویہ اُبھرتا ہے
ہم اپنے بچوں سے جس وقت ہار جاتے ہیں
شغف ہے خوب روایات رفتگاں سے مگر
ہم عہدِ نو کے ترانے بھی گنگناتے ہیں
خونِ نا حق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا
اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا
جب سے ہے قید حِصاروں میں تکبر کے انا
خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا
جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے
سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا
سانپ سیڑھی کا کھیل
وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو
ہم عہدِ طِفلی میں کھیلتے تھے
اگرچہ سانپوں سے گھِر بھی جاتے
جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا
تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے
جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے
ان کے ذہنوں میں نہ مسجد، نہ شوالے ہوں گے
بھُوکے بچوں کی اُمیدیں نہ شکستہ ہو جائیں
ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں اُبالے ہوں گے
تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بُلا لے اس کو
میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے
وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا
درد حد سے سوا نہیں ہوتا
میری کوشش کو جو رضا ملتی
لفظ یوں بے صدا نہیں ہوتا
ہمزباں تو بہت ملے، لیکن
کیوں کوئی ہمنوا نہیں ہوتا